کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 309
جواب:جب آدمی فوت ہو جائے اور اس کے اصول و فروغ میں سے کوئی نہ ہو اور اس کی متعدد بہنیں ہوں تو انہیں ترکہ سے دو تہائی ملتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ ﴾1 ’’اگر بہنیں دو ہوں تو ان کا ترکہ کا دو تہائی ملے گا۔‘‘ اور باقی ایک تہائی دونوں چچا عصبہ ہونے کی حیثیت سے لے لیں گے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’مقررہ حصہ لینے والوں کو ان کے حصے دو اور جو باقی بچے وہ قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہے۔‘‘ 2 مذکورہ بالا قرآن و حدیث کی تصریحات کے پیش نظر کل جائیداد کے بارہ حصے کر لیے جائیں۔ ان میں سے دو تہائی یعنی آٹھ حصے بہنوں کے لیے ہیں، ان کو ایک حصہ دے دیا جائے اور باقی چار حصے دو چچاؤں کو دئیے جائیں۔ (واللہ اعلم) والدین اور بچوں کے حصص سوال ایک آدمی فوت ہوا، اس کے والدین، پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں زندہ ہیں، اس کا ترکہ دو لاکھ پچاس ہزار روپیٔہ ہے، ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟ جواب مرنے والے کی اگر اولاد ہو تو والد اور والدہ ہر ایک کو چھٹا چھٹا حصہ ملتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ ﴾3 ’’اور والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا ہے اگر میت کی اولاد ہے۔‘‘ والدین کو ان کا حصہ دینے کے بعد باقی ترکہ اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ایک لڑکے کو لڑکی کے مقابلہ میں دو گنا حصہ ملے، سہولت کے پیش نظر جائیداد کے بیالیس حصے کر لیے جائیں، ان میں سے سات، سات حصے والدین کو اور باقی اٹھائیس اس طرح تقسیم کیے جائیں کہ لڑکے کو لڑکی سے دو گنا ملے یعنی ہر لڑکے کو چار حصے اور ہر لڑکی کو دو حصے دئیے جائیں۔ دو لاکھ پچاس ہزا رکی تقسیم حسب ذیل ہو گی: والد کا حصہ: 41,666.66 والدہ کا حصہ: 41,666.66 میزان: 83333.33 باقی: 166666.67 ایک لڑکی کا حصہ: 11904.76 چار لڑکیوں کا حصہ 47619.04 ایک لڑکے کا حصہ: 23809.33 پانچ لڑکوں کا حصہ 119047.62 تمام حصص کا مجموعہ: 249999.99=119047.62+476191.4+83333.33