کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 30
جواب: قطب وابدال کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہمارے ہاں صوفیاء حضرات نے اس طرح کی باتیں لوگوں میں مشہور کر رکھی ہیں کہ فلاں شخص ابدال میں سے تھا، مشکوٰۃ المصابیح کی درج ذیل حدیث کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے: حضرت شریح بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اہل شام کا ذکر کیا گیا اور ان سے کہا گیا:اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ! ان پر لعنت کریں تو آپ نے فرمایا، نہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ’’ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس افراد پر مشتمل ہوں گے، ان میں سے جب ایک آدمی فوت ہو جائے گا تو اﷲ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وجہ سے بارش برستی ہے اور ان کے ذریعے دشمنوں سے بدلہ لیا جاتا ہے اور ان کی بنا پر اہل شام سے عذاب دور کیاجاتا ہے۔‘‘[1] اس روایت کو صاحب مشکوٰۃ نے مسند امام احمد کے حوالہ سے ذکر کیا ہے، اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو مسند علی رضی اللہ عنہ میں بیان کیا ہے۔ [2] لیکن یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی حضرت شریح بن عبید کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے جیسا کہ حافظ احمد شاکر نے اس کے متعلق لکھا ہے۔ [3] اسی طرح امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روایت بیان کی ہے کہ ایک خلیفہ کی وفات کے وقت امت میں اختلاف رونما ہو گا تو اہل مدینہ سے ایک آدمی بھاگ کر مکہ مکرمہ آئے گا، لوگ اس کی مقام ابراہیم اور رکن یمانی کے درمیان بیعت کریں گے پھر جب لوگ یہ منظر دیکھیں گے تو اس کے پاس شام کے ابدال اور عراق کے گروہ آئیں گے اور اس کی بیعت کریں گے۔[4] لیکن یہ روایت بھی قابل حجت نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں ابو قتادہ مدلس راوی ہے جس نے صالح ابی الخلیل سے عن کے صیغہ سے روایت بیان کی ہے پھر اس روایت میں صالح ابی الخلیل کے استاد ’’صاحب لہ‘‘ بھی مجہول ہے، ان علتوں کی وجہ سے یہ روایت بھی ناقابل اعتبار ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اس امت میں تیس ابدال ہوں گے۔ [5] امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اسے منکر قرار دیا ہے چنانچہ اس کی سند میں حسن بن ذکوان نامی راوی ضعیف ہونے کی بنا پر یہ روایت ناقابل حجت ہے، حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح کی جملہ روایات پر بایں الفاظ تبصرہ کیا ہے: ”بعض کتب میں ابدال، اقطاب، اغواث، نقباء، نجباء اور ورثاء سے متعلق احادیث ہیں، اس طرح کی تمام روایات باطل ہیں اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف باطل طور پر انہیں منسوب کیا گیا ہے۔‘‘ [6] بہرحال دنیا کا نظام بدلنے یا چلانے والے ابدال سراسر جھوٹ کا پلندا ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی کوئی روایت صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ (واﷲ اعلم) [1] مشکوۃ،ذکر اھل شام،حدیث نمبر:6277 [2] مسندامام احمد،ص:112،ج1۔ [3] مسنداحمد،ص:171،ج2 تحقیق احمدشاکر۔ [4] ابوداؤد،المھدی:4286۔ [5] مسندامام احمد،ص:322،ج5۔ [6] المنارالمنیف،ص:136