کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 297
قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا﴾[1] ’’مردوں کے لیے اس مال سے حصہ جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی اس مال سے حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں خواہ یہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ، ہر ایک کا طے شدہ حصہ ہے۔‘‘ اس آیت سے درج ذیل احکام معلوم ہوتے ہیں: ٭ ترکہ میں عورتوں کے لیے باقاعدہ حصہ ہے انہیں محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ٭ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ، منقولہ ہو یا غیر منقولہ، بہرحال وہ تقسیم ہو گا۔ ٭ قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دور والے رشتہ دار محروم ہوں گے۔ بہرحال اسلام نے میت کی جائیداد میں عورتوں کو شریک کیا ہے، صورت مسؤلہ بہت ہی تکلیف دہ ہے کہ باپ کی جائیداد سے ایک بیٹی کو صرف غریب اور کمزور ہونے کی وجہ سے محروم کیا گیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں ورثاء کے حصے مقرر فرمائے ہیں، وہاں آخر میں تنبیہ بھی کی ہے: ﴿ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۰۰۱۳ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ﴾[2] ’’یہ اللہ کی حدود ہیں، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے دوزخ میں داخل کریں گے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا نیز اسے رسوا کن عذاب ہو گا۔‘‘ بہن کو کمزور اور غریب خیال کر کے جائیداد سے محروم کرنا اللہ کی حدود سے تجاوز کرنا ہے، اس پر بہت سخت وعید ہے، خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جنت سے محروم کر دیں گے۔ (واللہ اعلم) کنواری لڑکی کا ترکہ سوال:ایک لڑکی کنواری فوت ہوئی ہے پس ماندگان میں سے والدہ، دو بھائی اور ایک بہن ہے، اس کا ترکہ زیورات وغیرہ کیسے تقسیم ہوں گے؟ قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ دیں۔ جواب:شرعی ضابطہ میراث کے مطابق مرنے والے کے جب بہن بھائی موجود ہوں تو والدہ کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔ ارشاد [1] ۴/النساء:۷۔ [2] ۴/النساء:۱۳، ۱۴۔