کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 294
جواب:انسان اپنی زندگی میں جو چیز فروخت کر دیتا ہے وہ اس کا مالک نہیں رہتا، پلاٹ کا بھی یہی معاملہ ہے وہ اس نے فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کر لی ہے، اگر اس کا انتقال نہیں ہوا تو یہ ایک قانونی معاملہ ہے۔ شرعی ورثاء کو چاہیے کہ وہ فروخت شدہ پلاٹ سے اپنا حصہ مانگنے کی بجائے خریدار کے نام اس کا انتقال کرائیں، کیونکہ وہ پلاٹ مرحومہ کا نہیں ہے بلکہ اس نے اپنی زندگی میں اسے فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کر لی ہے اور اسے اپنی ملکیت سے نکال دیا ہے، اب صرف وہ جائیداد تقسیم ہو گی جو مرنے کے وقت اس کے قبضہ میں تھی اور اس کی مالک تھی۔ سوال سے معلوم ہوا ہے کہ مرحومہ کا ترکہ صرف ایک مکان ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھی، اب وہی مکان شرعی ورثاء میں تقسیم ہو گا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: مرحومہ کی سات بیٹیوں کو مکان کا 2/3 ملے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ ﴾[1] ’’اگر میت کی صرف لڑکیاں ہی ہیں اور وہ دو سے زیادہ ہیں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔‘‘ لڑکیوں کو حصہ دینے کے بعد جو 1/3 باقی بچے گا وہ پدری بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ١﴾[2] ’’اگر میت کے بہن بھائی مرد اور عورتیں دونوں قسم کے ہیں تو مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ دیا جائے گا۔‘‘ سہولت کے پیش نظر متروکہ جائیداد کے تریسٹھ (۶۳) حصے کیے جائیں، ان میں سے دو تہائی یعنی بیالیس حصے سات بیٹیوں کے ہیں، ہر بیٹی کو چھ چھ حصے دئیے جائیں۔ باقی اکیس حصے اس طرح تقسیم کیے جائیں کہ بھائی کو بہن کے مقابلہ میں دو حصے ملیں یعنی بھائی کو چودہ اور بہن کو سات دینا ہوں گے۔ بہرحال وہ پلاٹ جو مرحومہ نے اپنی زندگی میں فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کر لی ہے، اس میں شرعی ورثاء کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) بیوی، بچوں کے حصص سوال:ہمارےوالد محترم جب فوت ہوئے تو ان کی بیوہ، تین بیٹے اور چار بیٹیاں موجود تھیں، ترکہ میں انہوں نے ایک مکان چھوڑا جس کی مالیت تقریباً دو کروڑ ہے، اس ترکہ کو پس ماندگان میں کیسے تقسیم کیا جائے گا؟ جواب:مرحوم کی اولاد موجود ہے، اس لیے بیوہ کو کل ترکہ سے آٹھواں حصہ دیا جائے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ﴾[3] ’’اگر تمہاری اولاد ہو تو بیویوں کو تمہارے ترکہ کاآٹھواں حصہ ملے گا۔‘‘ بیوہ کو حصہ دینے کے بعد باقی ترکہ کو اولاد میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ایک لڑکے کو لڑکی سے دو گناہ حصہ ملے، ارشاد باری [1] ۴/النساء:۱۱۔ [2] ۴/النساء:۱۷۶۔ [3] ۴/النساء:۱۲۔