کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 290
رہائش کے لیے ایک پلاٹ دے دیا جائے، اس طرح میرے بھائی کو سفارش سے ایک پلاٹ رہائش کے لیے مل گیا اور ہمارے والد گرامی کے نام ہو گیا، ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ہمارے وہ بھائی فوت ہو چکے ہیں جن کی سفارش سے پلاٹ ملا تھا، اب اس کی اولاد کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ پلاٹ ہمارے باپ کی محنت اور کوشش کاثمرہ ہے لہٰذا ہم اس کے حقدار ہیں، واضح رہے کہ جب پلاٹ ہمارے باپ کے نام ہوا تھا اس وقت ہمارے بھائی کی شادی نہیں ہوئی تھی، اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔ جواب:والد کی زندگی میں اس کے چھوٹے بڑے لڑکے جو کمائی کرتے ہیں وہ باپ کی ہی شمار ہوتی ہے ہاں اگر کسی لڑکے کی شادی ہو جائے اور وہ اپنے بال بچوں کو الگ رکھتا ہو اور علیحدہ طور پر کھاتا پیتا ہو تو اس صورت میں اس کی کمائی اپنی شمار ہو گی، اگر شادی سے پہلے اپنے باپ کے ہمراہ جو کمائی کرتا ہے تو وہ سب باپ کے لیے ہو گا اور اس کی ملکیت شمار کیا جائے گا، صورت مسؤلہ میں بھائی کے بچوں کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ یہ پلاٹ ہمارے باپ کی سفارش سے حاصل ہوا تھا، یہ ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے حقدار ہیں، ایک حدیث میں اس امر کی صراحت ہے: ’’تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔‘‘ [1] اس حدیث کے پیشِ نظر بچوں کی کمائی شرعی اور معاشرتی طور پر باپ کی شمار ہو گی، اگر اس کی بیوی زندہ نہیں ہے تو باپ کی جائیداد کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر دیا جائے ان میں دو، دو حصے ہر لڑکے کو اور ایک ایک حصہ لڑکیوں کے لیے ہو گا، اپنے دادا کی جائیداد سے اس کے پوتے اور پوتیاں محروم ہوں گے جب کہ مرحوم کی حقیقی اولاد موجود ہے، ہمارے رجحان کے مطابق اس طرح کے معاملات کو وجہ نزاع نہ بنایا جائے بلکہ افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے تاکہ یتیم بچے کس مپرستی کا شکار نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ (واللہ اعلم) مقتول کی وراثت سوال:ہمارے ہاں ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو قتل کر دیا، قاتل کے علاوہ اس کے دو بھائی، ایک بہن اور ماں زندہ ہے، مقتول کی وراثت کیسے تقسیم کی جائے گی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب:بشرط صحت سوال واضح ہو کہ قاتل جائیداد سے محروم ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قاتل کسی چیز کا بھی وارث نہیں بن سکتا۔‘‘[2]مقتول کے شرعی وارث دو بھائی، ایک بہن اور والدہ ہیں۔ والدہ کو اس کی جائیداد سے چھٹا حصہ ملے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ﴾[3] ’’اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے۔‘‘ ماں کا چھٹا حصہ نکال کر باقی ترکہ کو دو بھائیوں اور ایک بہن میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ بھائی کو بہن سے دو گنا حصہ ملے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [1] ابوداود، البیوع: ۳۲۵۴۔ [2] ابوداود، الدیات: ۴۵۶۴۔ [3] ۴/النساء:۱۱۔