کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 283
جو خاوند نے اسے بطور حق مہر دئیے تھے، کیا اس کے ترکہ سے خاوند کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ جواب:جب کسی عورت کا نکاح ہو جاتا ہے تو وہ بیوی بن جاتی ہے خواہ اس کی رخصتی نہ ہوئی ہو، اس کے لیے بیوی کے حقوق ثابت ہو جاتے ہیں، اسی طرح جس سے نکاح ہوا ہے وہ اس کا خاوند بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر کوئی فوت ہو جائے تو ایک کو دوسرے کا وارث بنایا جائے گا۔ صورت مسؤلہ میں خاوند نے جو زیورات بطور حق مہر دئیے ہیں ان میں سے نصف کا حقدار اس کا خاوند ہے اگرچہ رخصتی نہیں ہوئی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ﴾[1] ’’تمہاری بیویاں جو مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو تمہارے لیے ان کے ترکہ سے نصف ہے۔‘‘ اگر مرنے والی لڑکی کا کوئی وارث ہے تو باقی ماندہ مال اسے دیا جائے گا، بصورت دیگر اسے بیت المال میں جمع کرا دیا جائے کیونکہ جس مال کا کوئی معین مالک نہ ہو اسے بیت المال میں جمع کرا دیا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم) دیور اور دوسری بیوی کی بیٹی کی موجودگی میں لاولد عورت کا حصہ سوال:ایک شخص کی دو بیویاں ہیں، ایک تو اس کی زندگی میں فوت ہو گئی، اس کے بطن سے پیدا ہونے والی ایک بیٹی زندہ ہے، اس کی دوسری بیوی لاولد ہے، اب وہ آدمی فوت ہو چکا ہے اور اس کا ایک بھائی بھی زندہ ہے، جائیداد کی تقسیم کیسے کی جائے گی، کیا بیوی کو لا ولد ہونے کی وجہ سے چوتھا حصہ ملے گا؟ جواب:علم فرائض میں جو حصص میں کمی بیشی ہوتی ہے وہ میت کے ساتھ پسماندگان کی نسبت کی وجہ سے ہے، یعنی خاوند جو فوت ہوا ہے اگر وہ صاحب اولاد تھا تو اس کی بیوی یا بیویوں کو آٹھواں حصہ ملتا ہے اور اگر وہ لا ولد ہے تو ایک بیوی یا متعدد بیویوں کو چوتھا حصہ دیا جاتا ہے، اس صورت میں بیوی کے صاحب اولاد یا لا ولد ہونے سے ان کے حصص پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے، اسی طرح جو وارث متوفیٰ کی زندگی میں فوت ہو جائے وہ بھی ترکہ سے کچھ حصہ نہیں پاتا، اس وضاحت کے بعد صورت مسؤلہ میں جائیداد کی تقسیم حسب ذیل طریقہ سے ہو گی۔ ٭ میت کی بیٹی کونصف ترکہ ملے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ ﴾[2] ’’اگر ایک بیٹی ہے تو اسے ترکہ سے نصف ملے گا۔‘‘ ٭ لا ولد بیوی کو کل جائیداد سے آٹھواں حصہ دیا جائے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ﴾[3] [1] ۴/النساء:۱۲۔ [2] ۴/النساء:۱۱۔ [3] ۴/النساء:۱۲۔