کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 275
ترغیب تو دی جا سکتی ہے، کہ اپنی مرضی سے ہر کوئی جتنا چاہے اس رفاہی کام میں حصہ ڈال دے لیکن طے شدہ رقم کاٹ لینا جائز نہیں ہے۔ 3) دھوکہ اور فراڈ بھی نہیں کرنا چاہیے، بعض دفعہ فروٹ کی پیٹی کے اوپر اچھا پھل ہوتا ہے لیکن اس کے نیچے ناقص پھل اورپتے وغیرہ بھرے ہوتے ہیں، آڑھتی حضرات کو اس کا علم ہوتا ہے۔ ہر قسم کے عیب کو ظاہر کر دیا جائے۔ یا پھل وغیرہ کی ڈھیری لگا کر نیلامی کی جائے تاکہ لینے والے پر اس کے عیوب ظاہر ہو جائیں۔ 4) بعض دفعہ آڑھتی حضرات اپنا مال منڈی میں نیلامی پر فروخت کرتے ہیں اور بولی کے وقت کچھ ایجنٹ چھوڑے ہوتے ہیں جو بھاؤ کو زیادہ کرنے کے لیے بولی زیادہ لگاتے ہیں، جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے، اس قسم کی بولی ناجائز اور حرام ہے کیونکہ اس میں دھوکہ دہی اور فراڈ ہے جس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ اگر مذکورہ خرابیوں سے اجتناب کیا جائے تو نیلامی کی خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں ہے، شریعت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ (واﷲ اعلم) زندہ جانور کے بدلے گوشت خریدنا سوال:زندہ جانور کے بدلے گوشت خریدنا جائز ہے یا نہیں، قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کیا ہدایات ہیں؟ جواب:زندہ جانور دے کر گوشت خریدنا جائز نہیں ہے، اس کے متعلق ایک حدیث میں ممانعت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کے بدلے گوشت کی خرید و فروخت کو منع فرمایا ہے۔ (مستدرک حاکم، ص: ۳۵،ج۲)اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے نواب صدیق حسن خاں فرماتے ہیں: میرے نزدیک اس حدیث کا بہترین معنی یہ ہے کہ کوئی شخص قصاب سے کہے اس بکری سے کتنا گوشت نکلے گا، قصاب نے جواب دیابیس کلو، دریافت کرنے والا اسے کہے بیس کلو گوشت کے عوض یہ بکری رکھ لو، اگر اس سے زیادہ نکل آیا تو وہ تمہارا ہو گا اور اگر اس سے کم نکلا تو یہ نقصان تم نے خود برداشت کرنا ہو گا، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں (اور یہ جوئے کی ایک قسم ہے)[1] اس حدیث اور وضاحت کے پیش نظر زندہ جانور دے کر گوشت خریدنا جائز نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) گروی مکان دےکر قرضہ حاصل کرنا سوال:ہم نے ایک لاکھ روپیہ کسی سے قرض لیا ہے اور اس کے عوض اپنا مکان گروی رکھا ہے، ہمیں رہنے کے لیے کوئی مکان نہیں ملتا، اس لیے ہم اس مکان میں رہتے ہیں اور جس سے قرض لیاہے اسے ہر ماہ اس کا کرایہ ادا کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟ جواب:کوئی چیز گروی رکھ کر قرض یا کوئی اور چیز آیندہ کی ادائیگی پر ادھار لی جا سکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے چند وسق جو لیے اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی۔[2] لیکن اس گروی شدہ چیز سے صرف اتنا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے جس قدر اس پر اخراجات اٹھتےہوں مثلاً بکری کو اگر چارہ ڈالنا ہے تو اس کا دودھ حاصل کر لیا جائے اور اگر سواری کا [1] الروضۃ الندیۃ، ص: ۲۴۰،ج۲۔ [2] صحیح بخاری، الرھن: ۲۵۰۹۔