کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 271
اسی طرح حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید کردہ سودے کو اسی جگہ بیچنے سے منع فرمایا ہے جہاں اسے خریدا گیا ہے حتی کہ تجار حضرات اسے اپنے گھروں میں لے جائیں، یعنی اس پر قبضہ کرنے کے بعد اسے آگے فروخت کیا جا سکتا ہے۔ [1] صورت مسؤلہ میں خریدار، مالک کو پلاٹ کا زر بیعانہ ادا کرتا ہے، جو صرف اعتماد کی علامت ہے کہ میں اس کا خریدار ہوں، آپ اسے آگے فروخت نہ کریں، پھر طے شدہ مدت پر پوری رقم ادا کر کے اسے خریدا جاتا ہے اور اس کی رجسٹری یا انتقال سے اس کی ملکیت میں آتا ہے، جب تک وہ پلاٹ، خریدار کی ملکیت نہیں ہوتا اور وہ اس پر قبضہ نہیں کر لیتا وہ اسے آگے فروخت کرنے کا مجاز نہیں ہے، اس لیے پیش کردہ صورت میں صرف بیعانہ ادا کر کے اسے آگے فروخت کر دینا شرعاً جائز نہیں ہے، پہلے وہ اس پلاٹ کو اپنے نام کرائے اور اس پر قبضہ کر کے پھر اسے آگے فروخت کرے، اس طرح فیکٹری سے کھل بنولہ خریدا جاتا ہے۔ رقم ادا کر کے اس پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ فیکٹری میں رہنے دیا جاتا ہے مالک سے صرف پرچی یا رسید لی جاتی ہے، خریدار اس پرچی کو ایک تیسرے آدمی کو فروخت کر دیتا ہے اس طرح اس رسید کی ہی خریدوفروخت ہوتی رہتی ہے، جبکہ اصل مال فیکٹری میں پڑا ہے، اسے نہ کسی نے دیکھا اور نہ ہی اس پر قبضہ کیا، اس طرح کا کاروبار، احادیث بالا کی روشنی میں ناجائز ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (واﷲ اعلم) سیونگ کھاتے میں رقم سے منافع لینا سوال:بینک والے سیونگ کھاتے میں رکھے ہوئے سرمایہ پر منافع دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے کاروبار میں لگاتے ہیں، کیا یہ منافع سود کے ضمن میں آتا ہے، اس کے متعلق تفصیلی فتویٰ درکار ہے۔ جواب :بینک میں عام طور پر ہر دو قسم کے کھاتے ہوتے ہیں، ایک کرنٹ کھاتہ اور دوسرا سیونگ کھاتہ، کرنٹ میں رکھی گئی رقم پر بینک کسی قسم کا نفع دیتا اورنہ ہی اس سے زکوٰۃ کی رقم کاٹی جاتی ہے، البتہ بینک اس رقم کو اپنے استعمال میں ضرور لاتا ہے اور اسے دوسروں کو سود پر دیتا ہے، ہمارے رجحان کے مطابق اس کھاتے کے ذریعے گناہ اور ظلم پر بینک کا تعاون کیا جاتا ہے جس کی قرآن میں ممانعت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ ﴾[2] ’’نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، ظلم اور گناہ میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔‘‘ اگرچہ کرنٹ کھاتے میں رکھی ہوئی رقم پر اس کے اصل مالک کو کچھ نہیں دیا جاتا تاہم اس رقم کو سودی کاروبار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بینک میں دوسرا کھاتہ سیونگ کہلاتا ہے، اس رقم پر اصل مالک کو سود بھی دیا جاتا ہے جسے بینک والے منافع کا نام دیتے ہیں لیکن نام کی تبدیلی سے حقیقت نہیں بدل جاتی، لوگوں کو پھانسنے کے لیے اس کھاتے کے مختلف نام ہیں مثلاً شراکتی کھاتہ، نفع اور نقصان کی بنیاد پر شراکت داری، اس کا مشہور نام P.L.Sہے، اس کھاتے میں رکھی ہوئی رقم کو آگے بھاری سود پر دوسروں کو دیا [1] مستدرک حاکم، ص: ۴۰، ج۲۔ [2] ۵/المائدۃ: ۲۔