کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 258
روزہ چھوڑنے پر مجبور ہو مثلاً کوئی آدمی ایسی عمارت میں پھنسا ہو اہے جسے آگ لگ چکی ہے یا وہ دیکھے کہ کوئی شخص دریا میں ڈوب رہا ہے اور وہ اسے بچانے کے لیے روزہ ترک کر دے تو اس کے لیے جائز ہے کہ دوسرے کی جان بچانے کے لیے روزہ چھوڑ دے نیز جہاد فی سبیل اللہ میں طاقت حاصل کرنے کے لیے روزہ ترک کر دینا بھی جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا تھا: ’’تم اپنے دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور ایسی حالت میں روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے موجب طاقت و قوت ہے۔‘‘ [1] ایسی حالت میں اگر کوئی روزہ ترک کر دیتا ہے تو عذر ختم ہونے پر دن کے بقیہ حصہ میں کھانے پینے سے پرہیز کرنا ضروری نہیں کیونکہ روزہ چھوڑنے کے جائز سبب کی وجہ سے اس دن کی حرمت زائل ہو چکی ہے، اس بنا پر ہمارا رجحان ہے کہ اگر حائضہ عورت دن کے وقت پاک ہو جائے تو اس کے لیے بھی باقی دن کھانا پینا جائز ہے، اس سے رکنا جائز نہیں، اگر اس کے برعکس کسی کو دن کے وقت ماہ رمضان کے آغاز کا علم ہو جائے تو اسے باقی دن میں کھانا پینا ترک کر دینا ہو گا کیونکہ جب دن میں دلیل کے ساتھ رمضان کا آغاز ثابت ہو گیا تو باقی دن میں کھانے پینے سے پرہیز کرنا ضروری ہے، قبل ازیں وہ جہالت کی وجہ سے معذور تھا اور اب اس کا عذر ختم ہو چکا ہے، لیکن قبل ازیں جن لوگوں کا بیان تھا ان کے لیے علم کے باوجود روزہ چھوڑنا جائز ہے، لہٰذا دونوں صورتوں میں فرق واضح ہے، بہرحال جہالت کے عذر کے علاوہ کوئی دوسرا عذر روزہ چھوڑنے کا باعث ہے تو عذر ختم ہونے کے بعد اسے باقی دن کے حصہ میں کھانا پینا جائز ہے۔ البتہ جہالت کے عذر کی بنا پر دن کے باقی حصہ میں کھانے پینے کی اجازت نہیں ہے اس لیے جہالت کا عذر اب ختم ہو چکا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) فوت شدہ آدمی کے متروکہ روزے سوال:میرا بھائی سابقہ رمضان میں فوت ہوا، مرض کے دوران اس کے کچھ روزے رہ گئے تھے، وہ روزے ہمیں رکھنے ہوں گے یا ان کی طرف سے فدیہ دے دیا جائے؟ اس کے متعلق تفصیل درکار ہے، وضاحت کر دیں تاکہ ہماری پریشانی دورہو جائے۔ جواب:فوت شدہ روزوں کو رکھنے کا اگر موقع ملے تو انہیں رکھنا چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے رمضان کے روزے ہوں تو اس کے سرپرست یا ولی کو وہ روزے رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کوئی شخص دوسرے کی طرف سے روزہ نہ رکھے۔ [2] البتہ میت نے اگر روزے رکھنے کی نذر مانی ہو اور وہ اپنی نذر کے روزے نہ رکھ سکا ہو تو اس کے قریبی رشتہ دار کو وہ روزے رکھنے ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے کچھ نذر کے روزے تھے تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں! ضرور رکھو۔‘‘ [3] [1] صحیح مسلم، الصیام: ۱۱۲۰۔ [2] مؤطا امام مالک، کتاب الصیام۔ [3] صحیح بخاری، کتاب الصیام۔