کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 257
جواب:روزے کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالی جا سکتی ہے اور سرمہ بھی لگایا جا سکتا ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت روزہ اپنی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ [1] اس حدیث سے واضح طور پر دوران روزہ سرمہ لگانے کا جواز نکلتا ہے، اگرچہ بعض محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اس کے باوجود کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس کی ممانعت کے متعلق ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو سرمہ لگانے سے اجتناب کرنے کی تلقین کی ہے۔ [2]لیکن اس حدیث کے متعلق امام ابوداؤد نے وضاحت کی ہے کہ امام یحییٰ بن معین نے مجھ سے کہا: ’’یہ حدیث ضعیف ہے۔‘‘ [3] بہرحال روزہ دار کو آنکھ میں دوائی ڈالنے اور سرمہ لگانے کی اجازت ہے، اس کے متعلق کوئی ممانعت احادیث میں نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) بحالت روزہ ناک میں دوا ڈالنا سوال:میری ناک میں تکلیف ہے، اگر میں ناک میں دوائی نہ ڈالوں تو تکلیف زیادہ ہو جاتی ہے، کیا روزہ رکھنے کے بعد ناک میں دوائی ڈالنا جائز ہے؟ جواب:روزہ دار کو ناک میں دوائی ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو الاّ یہ کہ تم روزہ دار ہو۔‘‘[4] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزہ دار کو ناک میں دوائی نہیں ڈالنی چاہیے، اگر کسی کو تکلیف ہے اور ناک میں دوائی ڈالنا ضروری ہے تو وہ کسی دوسرے کو روزے رکھوا دے اور اگر بیماری سے افاقہ کی امید ہو تو روزے رکھوانے کے بجائے رمضان کے بعد روزے خود رکھ لے۔ (واللہ اعلم) ترک روزہ کی وجوہات سوال:وہ کون کون سے عذر ہیں جن کی بنا پر روزہ چھوڑا جا سکتا ہے اور کیا اگر دن کے کسی حصہ میں عذر ختم ہو جائے تو باقی دن میں کھانے پینے سے پرہیز کرنا ضروری ہے؟ اس سلسلہ میں وضاحت کریں۔ قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ دیں۔ جواب:قرآن کریم نے روزہ ترک کرنے کے دو عذر بیان کیے ہیں، ایک بیماری اور دوسرا سفر، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ١ ﴾[5]’پھر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے۔‘‘ روزہ چھوڑ دینے کی رعایت حیض یا نفاس والی عورت کے لیے بھی ہے اور دودھ پلانے والی عورت بھی اس رخصت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے بشرطیکہ روزہ رکھنے کی صورت میں اسے اپنے یا اپنے بچے کے متعلق کوئی اندیشہ لاحق ہو، حاملہ عورت کے لیے بھی یہی حکم ہے، اس لیے یہ عذر بھی روزہ ترک کر دینے کا باعث ہے کہ کوئی انسان کسی معصوم کو تباہی سے بچانے کے لیے [1] ابن ماجہ، الصیام: ۱۶۷۸۔ [2] بیہقی،ص: ۲۶۲، ج۴ [3] ابوداود، الصوم: ۲۳۷۷۔ [4] ترمذی، الصیام: ۷۸۸۔ [5] ۲/البقرۃ: ۱۸۴۔