کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 255
نافرمان ہیں۔‘‘ [1] بہرحال ہمارا رجحان یہ ہے کہ دوران سفر روزہ چھوڑ دینے کی اجازت ہے، اگر روزہ رکھنے میں گرانی اور دشواری نہ ہو جیسا کہ آج کل سفر کرنے میں مسافر کو سہولیات میسر ہوتی ہیں تو ایسے حالات میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے اور اگر روزہ رکھنے میں دشواری ہو تو روزہ ترک کر دینا بہتر ہے۔ (واللہ اعلم) روزے دار کا A.C چلا کر سونا اور بار بار غسل کرنا سوال کچھ لوگ روزے کی حالت میں گرمی کی شدت کی وجہ سے بار بار غسل کرتے ہیں یا صلی اللہ علیہ وسلم .C Aچلا کر سوئے رہتے ہیں، ایسی حالت میں ان کا روزہ تو متاثر نہیں ہوتا؟ جواب اگر روزہ دار بھوک اور پیاس کی شدت کی بنا پر بار بار غسل کرتا ہے یا ٹھنڈے کمرہ میں سو جاتا ہے تو اس سے روزے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، روزہ دار کے لیے ٹھنڈک حاصل کرنا جائز ہے خواہ کسی بھی طریقہ سے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں گرمی یا پیاس کی وجہ سے اپنے سر مبارک پر پانی ڈال لیا کرتے تھے، چنانچہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہا رہے تھے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔ [2] اس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ وہ روزے کی حالت میں شدت حرارت یا پیاس کم کرنے کے لیے اپنے کپڑے کو گیلا کر لیا کرتے تھے۔ اس طرح کی رطوبت سے روزہ متاثر نہیں ہوتا کیونکہ یہ پانی نہیں جو معدے تک پہنچ جائے بلکہ امید ہے کہ پیاس اور گرمی کی شدت روزے میں اجر و ثواب کے زیادہ ہونے کا باعث ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ’’اس (حج) کا ثواب تمہارے خرچ یا تکلیف برداشت کرنے کے بقدر ہو گا۔‘‘ [3] بہرحال اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں انسان کو جس قدر تھکاوٹ ہو اسی قدر زیادہ اجر و ثواب ملے گا۔ اس کے ساتھ وہ ایسا کام بھی کر سکتا ہے جس سے روزے کی شدت میں کمی آجائے مثلاً وہ پانی سے ٹھنڈک حاصل کر سکتا ہے اور نہا سکتا ہے، اس سلسلہ میں دو چیزوں کا خیال رکھنا ہو گا۔ جو حسب ذیل ہیں: سارا دن سو کر نہ گزارے بلکہ اللہ کا ذکر اور تلاوت قرآن میں خود کو مصروف رکھے کیونکہ روزے سے تعلق باللہ گہرا ہوتا ہے، اس تعلق کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرے۔ نماز پنجگانہ کی پابندی کرے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ٹھنڈے کمرے میں سو کر نمازوں سے غافل ہو جائے کیونکہ اگر اس قسم کی سہولیات سے نماز باجماعت رہ گئی تو ایسا نقصان ہے جس کی تلافی نہیں ہو سکے گی۔ (واللہ اعلم)
[1] صحیح مسلم، الصیام: ۱۱۱۴۔ [2] ابوداود، الصیام: ۳۲۶۵۔ [3] بخاری، العمرۃ، باب نمبر۸، حدیث نمبر: ۱۷۸۷۔