کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 253
ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے اسی عزم وارادہ کے ساتھ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام مقرر کر دیا پھر ایک رات میں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ تمام لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز تراویح پڑھ رہے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نیا طریقہ بہت بہتر اور مناسب ہے اور رات کا وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصے سے بہتر ہے جس میں یہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصے کی تھی کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع میں ہی پڑھ لیتے تھے۔ [1] مذکورہ روایات سے معلوم ہو اکہ قیام رمضان یعنی صلوٰۃ تراویح باجماعت مشروع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس اندیشے کی وجہ سے چوتھی رات جماعت سے گریز کیا تھا کہ یہ نماز مسلمانوں پر فرض نہ کر دی جائے، شاید بعد میں یہ لوگ بار خاطر خیال کر کے ترک کر دیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خائف تھے، اس سے امن ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے نماز تراویح باجماعت ادا کرنے کا اہتمام فرمایا اور اسے باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا، اس بنا پر سوال میں جو مفروضہ قائم کیا گیا ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) عالم اسلام کا ایک ہی وقت میں نماز پڑھنا سوال:کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وحدت امت کے پیش نظر عالم اسلام میں عید ایک ہی دن ہونی چاہیے، اس کے لیے وہ تمام عالم اسلام کے مطالع کو مکہ مکرمہ کے مطلع کے ساتھ مربوط کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ مرکز اسلام ہے، اس کے متعلق وضاحت کریں۔ جواب:ماہرین فلکیات کے مطابق چاند کے مطالع مختلف ہیں، اس اختلاف مطالع کی وجہ سے وحدت امت کے بہانے عالم اسلام میں ایک ہی دن عید کرنا عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ چاند دیکھنے کے متعلق ہر علاقے کا اپنا لحاظ کیا جائے گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا ترک کرو۔‘‘ [2] اس حدیث کے پیش نظر اگر اہل مکہ نے چاند دیکھ لیا تو مشرق میں رہنے والوں کو روزہ رکھنے یا عید الفطر کرنے کا کیونکر پابند کیا جا سکتا ہے؟ جب کہ انہوں نے ابھی چاند نہیں دیکھا کیونکہ اہل مشرق کے افق پر ابھی چاند طلوع نہیں ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کو چاند کو دیکھ لینے کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہر علاقہ کی اپنی رؤیت کا اعتبار کیا جائے کیونکہ زمین کی مشرقی جہت میں فجر مغربی جہت سے پہلے طلوع ہوتی ہے، اس بنا پر جب مشرقی جہت میں فجر طلوع ہو جائے تو کیا مغربی جہت میں رہنے والوں کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ کھانے پینے سے رُک جائیں جب کہ وہاں ابھی رات ہو گی اور فجر طلوع نہیں ہو گی۔ اس طرح جب مشرقی جہت میں سورج غروب ہو جائے تو کیا اہل مغرب کے لیے روزہ افطار کر دینا ضروری ہے جب کہ وہاں سورج غروب نہیں ہوا، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، اس طرح چاند بھی سورج کی طرح ہے۔ بہرحال ہمارے رجحان کے مطابق روزہ رکھنے اور عید [1] صحیح بخاری، التراویح: ۲۰۱۰۔ [2] صحیح بخاری، الصوم: ۱۹۰۹۔