کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 247
انہیں بتایا گیا کہ عاشورا کی تعظیم اور اس کا روزہ رکھنے سے اس گناہ کی تلافی ہو سکتی ہے۔ [1] صحیح احادیث کے مطابق قریش بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھتے تھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ [2]عین ممکن ہے کہ یہود مدینہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قریش نے بھی اس دن کی تعظیم کو اپنے ہاں برقرار رکھا ہو بہرحال تصریحات بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورہ کا دن بڑی تاریخی حیثیت کا حامل ہے، زمانہ قدیم سے اس کی تعظیم کے پیش نظر روزہ رکھنے کا رواج تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی زندگی میں اس رواج کو برقرار رکھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ قریش مکہ جاہلیت میں عاشورا کا روزہ رکھتے تھے اور مکہ میں رہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن ایک روزہ رکھا۔ [3] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورا کا خود بھی روزہ رکھتے اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے تاآنکہ رمضان کے روزے فرض کر دئیے گئے۔ [4] چنانچہ حدیث میں صراحت ہے کہ تمام مسلمان اس دن کا روزہ رکھتے تھے [5] یہودی و نصاریٰ بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تمہاری نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ قرب رکھتے ہیں اور ان کی اتباع کے زیادہ حق دار ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس روزہ کی مزید تاکید فرمائی۔ [6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اعلان کر دیا کہ اس دن کا روزہ رکھا جائے، حتیٰ کہ اگر کسی نے صبح سحری نہیں کھائی اور روزہ نہیں رکھا وہ بھی بقیہ دن روزے کی حالت میں پورا کرے۔[7] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کے دن مدینہ طیبہ کی مضافاتی بستیوں میں بھی اعلان کرایا کہ جس نے اس دن روزہ رکھا ہے وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کرے اور جس نے نہیں رکھا وہ شام تک کچھ نہ کھائے پیئے بلکہ بقیہ دن روزے کی حالت میں گزارے۔[8] اس تاکید در تاکید کا یہ اثر ہوا کہ صحابیات مبشرات رضی اللہ عنھن اپنے چھوٹے بچوں کو بھی کھانے پینے کے لیے کچھ نہ دیتیں بلکہ جب وہ بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر روتے تو انہیں روئی اور اون کے بنے ہوئے کھلونے دے دیتیں تاکہ وہ ان کھلونوں سے کھیلتے رہیں اور شام تک اپنے روزے کو پورا کریں جیسا کہ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کے بعد ہم خود بھی روزہ رکھتیں اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتیں، ہم اپنے بچوں کو کھلونوں سمیت مسجد میں لے جاتیں وہ شام تک ان سے کھیلتے رہتے۔[9] ہجرت کے دوسرے سال رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورا کے روزہ میں نرمی کر دی گئی البتہ اس کے استجاب کو باقی رکھا اور انسان کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’عاشورا اللہ کے ایام میں سے ایک دن ہے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔‘‘ [10] [1] فتح الباری، ص: ۲۴۶،ج۴۔ [2] صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۳۷۔ [3] صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۳۷۔ [4] صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۴۰ [5] صحیح مسلم الصیام: ۲۶۳۷۔ [6] صحیح بخاری، الصوم: ۲۰۰۴۔ [7] صحیح بخاری، الصوم: ۲۰۰۷۔ [8] صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۶۹۔ [9] صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۷۰۔ [10] صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۴۲۔