کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 237
انتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔‘‘ [1] ایک روایت میں ہے کہ ’’آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اسے تلاش کیا جائے۔[2]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دفعہ تئیسویں رات، شب قدر آئی تھی۔ حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ [3] حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تئیسویں رات ہم پر بارش نازل ہوئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات نمایاں تھے۔ [4] بہرحال احادیث کی صراحت کے مطابق شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے تاہم بعض روایات میں ہے کہ ان طاق راتوں میں سے ستائیسویں رات میں شب قدر کا زیادہ امکان ہے۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قسم اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ رات رمضان میں آتی ہے اور آخری عشرہ کی ستائیسویں رات کو آتی ہے۔[5] اس طرح حضرت معاویہ بن ابی سفیانرضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لیلۃ القدر ستائیسویں رات کو ہوتی ہے۔‘‘ [6] ہمارے رجحان کے مطابق آخری عشرہ کی تمام طاق راتوں میں شب قدر تلاش کی جائے، خاص طور پر ستائیسویں رات کو اس کے متعلق زیادہ اہتمام کرنا چاہیے، ان راتوں میں یہ دعا بکثرت پڑھی جائے۔ اَللَّھُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی ’’اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے لہٰذا مجھے بھی معاف کر دے۔‘‘ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر مجھے احساس ہو جائے کہ یہ لیلۃ القدر ہے تو اس میں کیا پڑھوں تو آپ نے انہیں مذکورہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ [7] رمضان المبارک میں مانع حیض گولیوں کا استعمال سوال رمضان المبارک میں پورے مہینہ کے روزے رکھنے کے لیے بعض عورتیں مانع حیض گولیاں استعمال کرتی ہیں، اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ جواب عورت کے لیے یہی بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں جو لکھ دیا ہے، اس پر راضی اور خوش رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو وہ رو رہی تھیں اور انہوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انہیں کیا ہوا ہے، شاید انہیں حیض آ گیا ہے، انہوں نے عرض کیا: ہاں ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ’’یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لازم قرار دیا ہے۔‘‘ [8] [1] صحیح بخاری، حدیث نمبر۲۰۲۳۔ [2] صحیح بخاری، حدیث نمبر:۲۰۱۸۔ [3] صحیح بخاری، فضل لیلۃ القدر: ۲۰۱۶۔ [4] صحیح مسلم حدیث نمبر۱۰۶۸۔ [5] صحیح مسلم، الصیام، باب لیلۃ القدر۔ [6] ابوداود، حدیث نمبر:۱۳۸۶۔ [7] جامع ترمذی، حدیث نمبر۳۵۱۳۔ [8] صحیح بخاری، الحیض: ۲۹۴۔