کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 230
سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ بالاتفاق ان احکام کا تعلق حج سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا تھا ’’تم اپنے عمرہ میں بھی اس طرح کرو جس طرح تم اپنے حج میں کرتے ہو۔‘‘ [1] یہ حکم عام ہے، صرف ذکر کردہ احکام اس سے مستثنیٰ ہیں، ان کے علاوہ دیگر احکام عمرہ کے لیے وہی ہیں جو حج کے لیے ہیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کو حج اصغر کہا ہے جیسا کہ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے۔ [2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’مکہ سے کوئی آدمی کوچ نہ کرے حتیٰ کہ وہ آخری وقت بیت اللہ میں گزارے۔‘‘ [3] ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ کرنے والے کو چاہیے کہ جب وہ اپنے گھر واپس آنے کا ارادہ کرے تو پہلے طواف وداع کرے، اس کے بعد دوسرے کسی کام میں مشغول ہونے کے بغیر رخت سفر باندھ لے۔ (واللہ اعلم) احرام باندھ کرمخصوص نماز پڑھنا سوال:عام طور پر ہمارے ہاں حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد دو رکعت پڑھی جاتی ہیں، کیا احرام کی کوئی مخصوص نماز ہے جس کا کتاب و سنت میں ثبوت ہو؟ جواب:کتاب و سنت میں کوئی ایسی نماز نہیں ہے جو احرام حج یا عمرہ کے لیے مخصوص ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں احرام کے بعد جو دو رکعت پڑھی تھیں وہ فرض نماز کی تھیں، ان کا احرام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اس بنا پر افضل یہ ہے کہ کسی فرض نماز کے وقت احرام باندھے اور اس کے بعد فرض نماز ادا کرے، اس طرح اگر نماز چاشت کا وقت ہو تو نماز چاشت کی دو رکعت پڑھ لے، اگر چاشت کا وقت نہ ہو تو وضو کی دو رکعت پڑھ لے، لیکن ایسی نماز جس کا تعلق احرام سے ہو اور احرام کی وجہ سے اسے پڑھا جاتا ہو، کتاب و سنت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) احرام باندھنے کے بعدغسل کے وقت بالوں کا اترنا سوال: کیا احرام باندھنے کے بعد بوقت ضرورت غسل کیا جا سکتا ہے؟ اس دوران اگر کوئی بال وغیرہ اکھڑ جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ جواب:احرام کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے اچھی طرح غسل کرے، خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں پہن لے، نیت کے ساتھ حج یا عمرہ کا تلبیہ بآواز بلند پڑھے۔ اگر احرام باندھنے کے بعد نہانے کی ضرورت پڑ جائے تو غسل کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے البتہ احتلام ہونے کی صورت میں غسل کرنا ضروری ہے، ٹھنڈک یا صفائی کے لیے بھی غسل کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر قسم کے غسل میں خوشبودار صابن سے اجتناب کرے کیونکہ محرم آدمی کو خوشبو استعمال کرنے کی ممانعت ہے، اگر غسل کرتے وقت مردہ بال گر جاتے ہیں تو اس پر کوئی فدیہ یا تاوان نہیں ہو گا البتہ دانستہ طور پر بالوں کو کاٹنا یا اکھاڑنا منع ہے۔ (واللہ اعلم) [1] صحیح بخاری، الحج: ۱۵۳۶ [2] دارقطنی،ص: ۲۸۵،ج۲۔ [3] مسلم، الحج: ۱۳۲۷۔