کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 226
اس کے بغیر میقات سے نہ گزرتی، لیکن مکہ پہنچ کر اعمال عمرہ کرنے سے رُکی رہتی پھر جب پاک ہو جاتی تو غسل کر کے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد اپنے عمرے کو مکمل کرتی۔ (واللہ اعلم) حجر اسود کوبوسہ دینا سوال:ہم نے دوران طواف دیکھا ہے کہ کچھ لوگ دھکم پیل کر کے حجر اسود کا بوسہ لیتے ہیں، اس سے بڑھ کر یہ کہ عورتیں بھی رش میں گھس کر حجر اسود کو چومنے کی کوشش کرتی ہیں، اس کے متعلق وضاحت کریں کہ حجر اسود کو بوسہ دینے کی شرعاً کیا حیثیت ہے؟ جواب:سوال میں ذکر کردہ صورت حال جہالت پر مبنی ہے کیونکہ حجر اسود کو بوسہ دینا اور رکن یمانی کو چھونا صرف دوران طواف مشروع ہے، یہ بھی اس صورت میں ہے جب اس سے کسی دوسرے طواف کرنے والے یا کسی دوسرے انسان کو اذیت نہ پہنچے اگر حجر اسود کا بوسہ لینے میں کسی دوسرے کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے تو پھر ایک دوسرا طریقہ اختیار کرنا ہو گا جو حدیث سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ طواف کرنے والا حجر اسود کو صرف ہاتھ سے چھو لے پھر اپنے ہاتھ کو بوسہ دے لے۔ [1] اگر اس سے بھی کسی کو اذیت پہنچے یا اس کے لیے باعث مشقت ہو توپھرہمیں تیسرا طریقہ اختیار کرنا ہو گا جس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم دونوں ہاتھوں سے نہیں بلکہ ایک ہاتھ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر دیں، اس صورت میں اپنے ہاتھ کو چومنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسا کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ [2] خواتین کو اس موقع پر انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے، انہیں مردوں میں گھس کر حجر اسود کا بوسہ لینا کسی صورت میں مشروع نہیں ہے، انہیں تو عام حالات میں مردوں سے الگ رہنے کا حکم ہے لیکن طواف جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے وقت اس امر کا خاص خیال رکھنا ہو گا کہ اجنبی آدمی سے ان کا کوئی حصہ مس نہ کرے، جب اللہ تعالیٰ نے حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے وسعت رکھی ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور خود پر سختی کر کے اللہ کی سختی کو دعوت نہیں دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ بوجہ شرم مسجد حرام میں بحالت حیض نماز ادا کرنا سوال:میں اس سال حج پر گئی، دوران حج مجھے حیض آ گیا لیکن میں نے شرم کے مارے کسی کو نہ بتایا بلکہ ایسی حالت میں مسجد حرام کے اندر نمازیں ادا کیں، طواف کعبہ بھی کیا اور صفا و مروہ کی سعی بھی کی۔ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں میری راہنمائی کریں۔ جواب:شریعت کا اہل اسلام سے مطالبہ ہے کہ کم ازکم ضروریات دین کے متعلق معلومات حاصل کریں، جس مرد یا عورت نے حج کرنا ہے اسے چاہیے کہ حج سے پہلے اس کے متعلق واقفیت حاصل کرے۔ مکمل معلومات لینے کے بعد حج پر جائے، محکمہ مذہبی امور اس بات کا اہتمام کرتا ہے کہ حجاج کرام کو حج کی ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ مکہ جا کر اندھیرے میں تیر اندازی نہ [1] صحیح بخاری، الحج: ۱۶۱۱۔ [2] صحیح مسلم، الحج: ۱۲۷۲۔