کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 218
اہل خانہ خواتین کے نہیں ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں ان زیورات کو فروخت کرے اور فریضۂ حج کی ادائیگی میں سستی کا مرتکب نہ ہو اور بصورت دیگر کتاب و سنت میں اس کے متعلق سخت وعید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص حج کرنے کی ہمت اور استطاعت رکھتا ہے، اس کے پاس زاد سفر اور سواری موجود ہے جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے لیکن وہ حج نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ ایساشخص یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔‘‘ [1] اس حدیث کی سند میں اگرچہ محدثین نے کلام کیا ہے تاہم درج ذیل آیت کریمہ سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے: ﴿وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ﴾[2] ’’جو شخص اس حکم (حج) کا انکار کرے تو اللہ تعالیٰ تمام اہل دنیا سے بے نیاز ہے۔‘‘ بہرحال اس قدر زیورات سائل کی ملکیت ہیں اور وہ کاروبار کے لیے نہیں ہیں تو وہ انہیں ٹھکانے لگا کر ان کی قیمت سے بیت اللہ کا حج کرنے کی سعادت حاصل کرے۔ (واللہ اعلم) بلا عذر رمی نہ کرنا سوال:ایک عورت تندرست و توانا ہے لیکن وہ جمرات کی رمی کے لیے اپنے بیٹے کو کہتی ہے حالانکہ وہ خود رمی کر سکتی ہے، ایسے حالات میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟ جواب:جمرات کو کنکریاں مارنا مناسک حج سے ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کنکریاں ماری ہیں اور اس کا حکم بھی دیا ہے پھر یہ ایک عبادت بھی ہے جسے انتہائی خشوع سے ادا کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’بیت اللہ، صفا مروہ کا طواف اور رمی جمار کو اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔‘‘ [3] کنکریاں مارنے میں مرد اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے، شدید ہجوم کے وقت انہیں آگے پیچھے تو کیا جا سکتا ہے لیکن بلاوجہ نیابت جائز نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے کمزور افراد کو اجازت دی تھی کہ وہ رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ چلے جائیں تاکہ انہیں اس ہجوم کی وجہ سے تکلیف نہ ہو جو طلوع فجر کے بعد سب لوگوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس بناء پر ہمارا رجحان یہ ہے کہ رمی جمار کے لیے کسی کو بلاوجہ وکیل نہیں بنانا چاہیے بلکہ خود یہ فریضہ ادا کیا جائے، البتہ اگر کوئی مرد یا عورت بیمار ہو یا کوئی عورت حاملہ ہو اور اس کے حمل کو ہجوم کی وجہ سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسے حالات میں کسی کو وکیل بنایا جا سکتا ہے۔ صورت مسؤلہ میں وکالت صحیح نہیں ہے اگر ایسا کیا گیا ہے تو فدیہ کا جانور ذبح کر کے مکہ کے فقراء میں تقسیم کر دیا جائے۔ (واللہ اعلم) بحالت احرام سرمہ یا دوائی آنکھوں میں ڈالنا سوال کیا احرام کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ ڈالنا یا کوئی دوسری دوا استعمال کرنا جائز ہے ؟ کتاب و سنت کی روشنی [1] ترمذی، الحج: ۸۱۲۔ [2] ۳/آل عمران: ۹۷۔ [3] مسند امام احمد،ص: ۶۴،ج۶۔