کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 215
جواب:حاجی کو چاہیے کہ وہ منیٰ پہنچنے سے پہلے ہی جمرات کو مارنے کے لیے راستہ سے کنکریاں اٹھائے، وہ مزدلفہ، منیٰ یا کسی اور جگہ سے بھی اٹھائی جا سکتی ہیں اور ان کا حجم لوبیے کے برابر چنے کے دانے سے ذرا بڑا ہونا چاہیے۔ کنکریوں کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ رمی جائز نہیں ہے، چنانچہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس ذوالحجہ کو اپنی سواری پر بیٹھے بیٹھے حکم دیا: ’’مجھے کنکریاں چن دو‘‘ میں نے سات کنکریاں چن دیں جو انگلیوں کے پوروں میں آسکتی تھیں۔ آپ انہیں ہاتھ میں لے کر حرکت دینے لگے اور ان کی مٹی جھاڑنے لگے پھر آپ نے فرمایا: ’پس کنکریاں مارو اور اے لوگو! دین میں غلو کرنے سے بچو، بے شک پہلے لوگوں کو دین میں غلو نے تباہ کر دیا تھا۔[1] اس حدیث کی روشنی میں بڑے شیطان کوجوتے مارنا، اس پر تھوکنا اور اسے گالیاں دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح اسے بڑے بڑے پتھر مارنا بھی جائز نہیں، یقیناً اگر کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ شیطان کو خوش کرتا ہے، کس قدر قسمتی کی بات ہے کہ اسے رمی کرتے وقت اس کی خوشی کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے، مذکورہ حدیث کی روشنی میں حاجی کو چاہیے کہ وہ صرف کنکریں مارنے پر اکتفاء کرے اور دین میں غلو سے اجتناب کرے۔ (واللہ اعلم) نا بالغ بچہ کا حج سوال:ہم دونوں میاں بیوی امسال حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور ہمارے ساتھ چھ سال کا بیٹا بھی ہے کیا نابالغ بچہ بھی حج کر سکتا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ جواب:حج کی شرائط میں سے مسلمان کا بالغ ہونا بھی ہے، تاہم نابالغ بچہ بھی حج کر سکتا ہے لیکن بلوغت کے بعد اسے یہ حج کافی نہیں ہو گا بلکہ فرض کی ادائیگی کے لیے اسے دوبارہ حج کرنا پڑے گا۔ حدیث میں ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عورت اپنے بچے کو اٹھا کر لائی اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں! اس کے لیے حج ہے البتہ اس کا ثواب تمہیں ملے گا۔‘‘ [2]حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو بچہ حج کرے پھر وہ بلوغت کو پہنچ جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ فرض کی ادائیگی کے لیے دوسرا حج کرے۔‘‘ [3] ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نابالغ بچہ حج کر سکتا ہے لیکن یہ حج فرضیت کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہو گا، بلوغت کے بعد اگر اس پر حج فرض ہوا تو اسے از سر نو حج کے لیے رخت سفر باندھنا ہو گا۔ (واللہ اعلم) عورت کا بغیر محرم حج پر جانا سوال:میرا اس سال اپنے خاوند کے ہمراہ حج پر جانے کا ارادہ تھا، ہماری درخواست بھی نکل آئی ہے لیکن اچانک کسی حادثہ کی وجہ سے میرا شوہر میرے ساتھ جانے کے قابل نہیں رہا۔ وقتی طور پر کوئی دوسرا محرم میرے ساتھ نہیں جا سکتا، کیا میں اکیلی حج [1] سنن نسائی ،المناسک :3095۔ [2] مسلم، الحج: ۱۳۳ ۶۔ [3] بیہقی،ص: ۵۲۳،ج۴۔