کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 212
’’اے ہمارے پروردگار! اگر ہم سے بھول ہو جائے یا ہم کسی خطاء کے مرتکب ہوں تو اس پر ہمارا مؤاخذہ نہ فرما۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی اور آپ جوتوں سمیت نماز پڑھ لیتے تھے، اس دن آپ نے دوران نماز اپنے جوتوں کو اتار دیا، آپ کو دیکھ کر آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنے جوتوں کو اتار دیا، نماز کے مکمل کرنے کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے جوتے اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے پاس تو جبرئیل علیہ السلام آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ آپ کے جوتوں کو نجاست لگی ہوئی ہے۔‘‘ [1] اس موقع پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نماز کا حصہ نجاست آلود جوتوں میں ادا کیا۔ لیکن آپ نے اس ادا شدہ نماز کا اعادہ نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص بھول جائے یا لا علمی کی وجہ سے ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے، اسے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، اس طرح اگر نادانستہ یا لا علمی کی وجہ سے نجاست آلود احرام میں عمرہ کر لیا تو علم ہونے کے بعد اسے دوبارہ عمرہ کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا عمرہ صحیح ہے۔ حج بدل کرنا سوال میرے والد گرامی کا چند روز قبل انتقال ہوا، زندگی میں ان پر حج فرض نہیں ہوا تھا کیونکہ جب ان کے پاس زادِ سفر (رقم) کا بندوبست ہوا تو وہ صحت کے حوالے سے سفر حج کے قابل نہ تھے، اب ان کی وفات کے بعد حج بدل کا حکم ان کے ورثاء پر لاگو ہو گا یا نہیں اور اگر ہو گا تو ان کی طرف سے کون حج ادا کر سکتا ہے؟ جواب حج ارکان اسلام میں سے پانچواں رکن ہے اور یہ اس شخص پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو، استطاعت سے مراد یہ ہے۔ (ا) بیت اﷲ شریف جانے اور واپس آنے کا خرچہ اس کے پاس موجود ہو۔ (ب) اس کی عدم موجودگی میں گھر کے اخراجات کے لیے فاضل رقم موجود ہو۔ (ج) سفر حج پر امن ہو اور اس کے مال وجان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ (د) جسمانی صحت اس قابل ہو کہ اس سفر کی صعوبتوں کو برداشت کر سکتا ہو۔ اگر کسی کے پاس حج اور اہل خانہ کے اخراجات موجود ہیں اور راستہ بھی پرامن ہے مگر جسمانی صحت ساتھ نہیں دیتی تو وہ کسی تندرست شخص کو اپنی طرف سے حج کروا سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عورت آئی اور اس نے دریافت کیا کہ یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! اﷲ تعالیٰ کا فریضہ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پالیا ہے مگر وہ سواری پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [1] ابو داود، الصلوٰۃ: ۶۵۰۔