کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 207
اس لیے چار اجناس سے ہی زرعی زکوٰۃ وصول کی جائے۔ چونکہ مسلمان کا مال حرام ہے۔ اس لیے صرف اتنا ہی لیا جا سکتا ہے جتنے مال کے متعلق قطعی دلیل موجود ہو اور دلیل کی رو سے صرف چار چیزوں سے زکوٰۃ لینا ثابت ہے لہٰذا انہی چار پر اکتفا کیا جائے۔ اس دلیل کے متعلق ہماری گزارش یہ ہے کہ اگرچہ امام حاکم نے اس روایت کی سند کو صحیح کہا ہے اور علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی موافقت کی ہے، علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [1] لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ روایت قابل حجت نہیں ہے کیونکہ اس میں ابو حذیفہ راوی صدوق سئی الحفظ ہے، سفیان ثوری جیسے مدلس راوی نے اس روایت کو عَنْ سے بیان کیا ہے اور طلحہ بن یحییٰ راوی بھی مختلف فیہ ہے، ان تمام راویوں کے متعلق جرح کتبِ جرح وتعدیل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کچھ شواہد پیش کیے ہیں لیکن وہ بھی مرسل اور ضعیف ہیں۔ اس لیے یہ روایت اس پایہ کی نہیں کہ اس سے قرآنی عموم کو خاص کیا جائے۔ اس لیے ہر زمینی پیداوار سے زکوٰۃ دی جائے، سورۃ الانعام کی آیت کے سیاق کو دیکھا جائے تو اس میں مختلف باغات بالخصوص کھجوروں اور اناروں کا ذکر ہے پھر تمام زرعی اجناس کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ﴾[2] ’’جب یہ درخت پھل لائیں تو ان سے خود بھی کھاؤ اور فصل اٹھاتے وقت ان میں سے اﷲ کا حق بھی ادا کرو۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گندم، جو، منقیٰ اور کھجور سے زکوٰۃ لی جاتی تھی مگر ہمارے ہاں ان کے علاوہ اور بہت سی اجناس بکثرت پیدا ہوتی ہیں جیسے چاول، جوار، باجرہ، مکئی، جو اور چنے وغیرہ۔ لہٰذا ان سب اجناس پر زکوٰۃ فرض ہو گی، ان کے علاوہ اخروٹ، بادام، خوبانی، مونگ پھلی اور کشمش بھی بکثرت دستیاب ہیں، یہ سب چیزیں جب حد نصاب کو پہنچ جائیں تو ان سے بھی زرعی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ سبزیوں اور ترکاریوں کے متعلق بھی روایات بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں زرعی زکوٰۃ نہیں ہے مثلاً ٭ حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ عبداﷲ بن مغیرہ نے حضرت موسیٰ بن طلحہ کی زمین میں سے سبزیوں کی زکوٰۃ لینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم ان سبزیوں سے زکوٰۃ نہیں لے سکتے کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [3] لیکن اس روایت کے متعلق حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت مرسل ہے۔ [4] ٭ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیرا، ککڑی، تربوز، انار اورگنے سے زکوٰۃ معاف فرمائی ہے۔ [5] لیکن اس روایت کے متعلق حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اس میں ضعف اور انقطاع پایا جاتا ہے، اس لیے یہ بھی قابل حجت نہیں ہے۔ [6] ٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سبزیوںمیں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ [7] [1] تمام المنہ: ۳۶۹۔ [2] ۶/الانعام: ۱۴۱۔ [3] دارقطنی، ص: ۹۷ج۲۔ [4] تلخیص الحبیر، ص: ۳۲۱، ج۲۔ [5] دارقطنی، ص: ۹۷، ج۲۔ [6] تلخیص الحبیر، ص: ۳۲۱، ج۲۔ [7] دارقطنی، ص: ۹۶، ج۲۔