کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 196
مشاورت سے آپ کا خاوند اپنی گِرہ سے دے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح آپ کا بھائی، باپ اور بیٹا بھی آپ کی اجازت سے زیورات کی زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے، بہرحال اس فرض کی ادائیگی ضروری ہے خواہ آپ خود ادا کریں یا آپ کی اجازت سے کوئی دوسرا ادا کر دے، مسئلہ کی نوعیت یکساں رہے گی۔ (واﷲ اعلم) قبل ازوقت زکوٰۃ دینا سوال:ہم عام طور پر ماہ رمضان میں زکوٰہ ادا کرتے ہیں لیکن بعض اوقات کوئی ضرورت مند ہمارے پاس آتا ہے جو تعاون کا حقدار ہوتا ہے، کیا ہم مالِ زکوٰۃ سے اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ پھر اسے ماہ رمضان میں ادا شدہ زکوٰۃ کے حساب میں لے آئیں؟ جواب:زکوٰۃ کے وجوب کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے، ایک یہ کہ وہ مال ضروریات سے زائد ہو، دوسرے یہ کہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور تیسرے یہ کہ اس پر سال گزر جائے، اگر دوران سال کوئی محتاج یا ضرورت مند آجائے جسے مال وغیرہ کی ضرورت ہے تو مال زکوٰۃ سے اس کا تعاون کیا جا سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ زکوٰۃ اپنے وقت مقررہ سے پہلے دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبل از وقت زکوٰۃ دینے کی اجازت دے دی۔ [1] امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے۔ ’’قبل از وقت زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان۔‘‘ اصحاب خیر کو چاہیے کہ وہ مال زکوٰۃ کے علاوہ فقرا اور مساکین کا تعاون کرتے رہا کریں، اﷲ تعالیٰ ان کی دعاؤں کی وجہ سے مال واسباب میں برکت عطا فرمائے گا۔ جہالت کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ کرنا سوال:ایک آدمی نے عرصہ ۳۰ سال سے زکوٰۃ ادا نہیں کی، اب اسے ہوش آیا ہے اور اپنے کیے پر نادم ہے، کیا اسے سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی یا توبہ کرنے سے ہی گناہ معاف ہو جائے گا؟ جواب:ہمارے نزدیک مذکورہ سوال کی دو صورتیں ممکن ہیں اور دونوں کا جواب الگ الگ ہے: 1) اگر اسے زکوٰۃ کی فرضیت کا علم تھا اور وہ جانتا تھا کہ میرے پاس اتنا مال موجود ہے جس میں سے زکوٰۃ دینا ضروری ہے، لیکن وہ دانستہ طور پر اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا رہا تو اس صورت میں اسے سابقہ سالوں کا حساب لگا کر زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے جرم کی اﷲ تعالیٰ سے معافی بھی طلب کرے۔ 2) اگر اسے زکوٰۃ کی فرضیت کا علم نہ تھا اور نہ وہ جانتا تھا کہ میرے پاس اس قدر مال ہے کہ اس میں سے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے، اس صورت میں اسے سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ ’’جرم‘‘ لاعلمی اور جہالت میں ہوا ہے، امید ہے کہ [1] ابو داود، الزکوٰۃ: ۱۴۳۰۔