کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 195
رہتے ہیں اوریہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ہم نے لوگوں سے نہیں مانگا، یہ تو اﷲ تعالیٰ کا رزق ہے جو اﷲ تعالیٰ نے ہمیں پہنچایا ہے، ایسا کرنا حرام اور ناجائز ہے کیونکہ جس شخص کو اﷲ تعالیٰ نے غنی کر دیا ہو اس کے لیے زکوٰۃ وصول کرنا حرام ہے، بہرحال صورت مسؤلہ میں آدمی کو وضاحت کر دینا چاہیے کہ میں خود زکوٰۃ کا حقدار ہوں، اگر وہ اجازت دے تو مال زکوٰۃ اپنے لیے رکھ لے بصورت دیگر اسے فقراء میں تقسیم کر دے۔ والدین کومال زکوٰۃ دینا سوال :میرے والدین انتہائی غریب ہیں، کیامیں انہیں مال زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟ قرآن وحدیث میں اس کے متعلق کیا وضاحت ہے۔ جواب:انسان کے لیے یہ انتہائی شقاوت اوربدبختی ہے کہ وہ والدین کی خدمت کرنے کے بجائے انہیں اپنی زکوٰۃ دینے کے متعلق سوچ وبچار کرے، والدین نے اسے بچپن سے جوانی تک پالا اور اس کے جملہ اخراجات برداشت کیے، اب جب بیٹا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا ہے تو انہیں اپنی جیب سے کچھ دینے کی بجائے زکوٰۃ دینے کے لیے فتویٰ پوچھتا ہے، بیٹے کو چاہیے کہ وہ اپنے ضرورت مند والدین پر اپنے ذاتی مال سے خرچ کرے، بلکہ اگر والدین ضرورت مند ہیں تو وہ اولاد کی اجازت کے بغیر بھی ان کے مال میں سے حسب ضرورت لے سکتے ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’سب سے پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ ہے جو اس نے خود کمائی ہو اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔‘‘[1] ایک آدمی نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس کا والد اس کا مال لے لیتا ہے تو آ پ نے فرمایا: ’’تو اور تیرا مال تیرے والد ہی کا ہے۔‘‘ [2] والدہ کا حق تو والد سے بھی بڑھ کر ہے جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ [3] گھریلو ضرورت میں استعمال ہونے والے زیورات کی زکوٰۃ سوال:میرے پاس دس تولے سونے کے زیورات تھے، جو میں نے ایک گھریلو ضرورت کے پیش نظر فروخت کر دئیے ہیں، میں نے ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی، اب مجھے شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں میری راہنمائی کریں۔ جواب:سونے کے زیورات اگرنصاب کو پہنچ جائیں تو ان میں زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے، اگر کسی کو زکوٰۃ کے وجوب کا علم نہیں تھا پھر انہیں فروخت کیا ہے تو اس صورت میں زکوٰۃ نہ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر آپ کو اس کے وجوب کا علم تھا اور دیدہ دانستہ طور پر اس سے پہلو تہی کی ہے تو اڑھائی فیصد کے حساب سے اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے اور اگر کئی سالوں سے زکوٰۃ ادا نہیں کی تو مارکیٹ میں سونے کی قیمت کے حساب سے ان زیورات سے زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی اور اگر اس کے وجوب کا علم آخری سال ہوا پھرانہیں فروخت کر دیا اور زکوٰۃ ادا نہیں کی تو ایک سال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔ ان کی زکوٰۃ آپ خود ادا کریں یا آپ کی [1] ابو داود، البیوع: ۳۵۲۸۔ [2] ابو داود، البیوع: ۳۵۳۰۔ [3] ترمذی، البر والصلۃ: ۱۸۹۷۔