کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 186
مسلمانوں کو ادا کرنا چاہیے، جنازے کے ساتھ جانے والے مرد ہی ہوتے ہیں کیونکہ عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے روک دیا گیا لیکن اس معاملہ میں ہم پر زیادتی اور سختی نہیں کی جاتی تھی۔ [1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنازے کے ساتھ جانے والے مرد حضرات ہوتے ہیں اور عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا مکروہ ہے پھر عورت کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے محرم اور غیر محرم کی تفریق کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے، کوئی بھی مسلمان میت کو کندھا دے سکتا ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیاہے: ’’جنازہ اٹھانا مردوں کا کام ہے، عورتوں کا نہیں۔‘‘ [2] بلکہ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر محرم آدمی عورت کی میت کو قبر میں اتار سکتا ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر کے جنازے میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے آج اپنی بیوی سے صحبت نہ کی ہو۔‘‘ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں، آپ نے فرمایا: ’’تم اس قبر میں اترو۔‘‘ چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ قبر میں اترے اور انہیں لحد میں لٹایا۔ [3] حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو قبر میں اتارنا اس بات کی دلیل ہے کہ غیر محرم مرد عورت کو قبر میں اتار سکتا ہے۔ جب غیر محرم میت کو قبر میں اتار سکتا ہے تو اسے کندھا دینے میں کون سا امر مانع ہے؟ ہمارے رجحان کے مطابق میت کو کندھا دیتے ہوئے محرم اور غیر محرم کی تفریق کرنا غیر شرعی ہے اور غیر محرم میت کو کندھا دے سکتا ہے۔ (واللہ اعلم) قبرستان میں قرآن خوانی کرنا سوال:ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ قبرستان میں قرآن خوانی کے لیے حفاظ کرام کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، وہ قبروں کے پاس شبینہ کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب:قبرستان قراء ت قرآن کا محل نہیں ہے لہٰذا ان میں قرآن خوانی کا اہتمام خلاف شریعت ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث میں اس کا واضح اشارہ ملتا ہے: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔ [4] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھروں میں قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے اور انہیں قبرستان نہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ قبرستان قرآن پڑھنے کا محل نہیں ہے۔ حفاظ کرام کو بھی چاہیے کہ وہ ناجائز کام کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے سے گریز کیا کریں۔ (واللہ اعلم) [1] صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۷۸۔ [2] صحیح بخاری، الجنائز، باب نمبر۵۰۔ [3] بخاری، الجنائز: ۱۳۴۲۔ [4] مسند امام احمد، ج۲، ص: ۲۸۴۔