کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 181
جواب مشرک اگر زندہ ہو تو اس کی رشد و ہدایت کے لیے دعا کرنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ دوس کے لیے ہدایت کی دعا کی تھی جب کہ وہ اس وقت مشرک تھا۔[1] امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’مشرکین کے لیے دعا کرنا۔‘‘ [2] لیکن مرنے کے بعد مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا۠ لِلْمُشْرِكِيْنَ۠ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ﴾[3] ’’نبی اور اہل ایمان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں جب کہ ان پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔‘‘ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی ماں کے لیے بخشش کی دعا کرنے کی اجازت طلب کی تو اس نے مجھے اجازت نہ دی پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی۔‘‘ [4] اس قرآنی آیت کی روشنی میں ہم کہتے ہیں کہ مشرک والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ ان کی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے ان کی رشد و ہدایت کے لیے دعا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (واللہ اعلم) مساجد میں نمازجنازہ کا اعلان کرنا سوال:مساجد میں نماز جنازہ کا اعلان کیا جاتا ہے، کیا قرآن و حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے کہ جنازے کا اعلان کیا جائے؟ جواب:جنازے کے لیے مسجد میں اعلان کرنا درست ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسجد میں ہی نجاشی کے فوت ہونے کی اطلاع دی تھی۔[5] اس طرح رشتہ داروں اور دوستوں کو مطلع کرنے کے لیے مسجد میں اعلان کیا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جنازے میں شریک ہو سکیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا تھا کہ تم نے مجھے اس کے مرنے کی اطلاع کیوں نہ دی؟ [6] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس عورت کو رات کے اندھیرے میں دفن کر دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ دی لہٰذا کسی کے جنازے کے لیے اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تاکہ اس کے جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہو سکیں، ایسا کرنا سنت سے ثابت ہے، اس طرح اہل خانہ رشتہ داروں اور دوست و احباب کو اطلاع دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) [1] بخاری، الدعوات: ۶۳۹۷۔ [2] صحیح بخاری، الدعوات، باب نمبر۵۹۔ [3] ۹/التوبۃ:۱۱۳۔ [4] صحیح مسلم، الجنائز: ۲۲۵۸۔ [5] صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۹۵۔ [6] صحیح مسلم، الجنائز: ۹۵۶۔