کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 173
قبروں کی مرمت کرنا سوال:بارش کی وجہ سے اگر قبر گر جائے تو کیا قبر کو درست کیا جا سکتا ہے، اگر میت کو نکالنا پڑے تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب:اگر قبر گرنے سے آیندہ اس کے معدوم ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے مرمت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ قبر کو برقرار رکھنا اور اس کی شناخت کے لیے اس پر پتھر وغیرہ رکھنا مشروع ہے، اس بناء پر مسمار شدہ قبروں کو درست کیا جا سکتا ہے، ضرورت پڑنے پر میت کو بھی قبر سے نکالا جا سکتا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے’’کیا کسی ضرورت کے پیش نظر میت کو قبر یا لحد سے نکالا جا سکتا ہے؟ پھر آپ نے وہ حدیث ذکر کی ہے کہ عبداللہ بن ابی منافق کو قبر میں داخل کرنے کے بعد دوبارہ نکالا گیا اور آپ نے اپنی قمیص پہنائی پھر اسے دفن کیا گیا۔[1] نیز حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی کو دفن کرنے کے چھ ماہ بعد قبر سے نکالا اور دوسری جگہ پر دفن کیا تھا، ان کے صرف کان کا تھوڑا سا حصہ متاثر ہوا تھا، باقی جسم اسی طرح تھا گویا ابھی دفن کیا گیا ہو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت لی ہو گی، کیونکہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے، پھر چھیالیس سال بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ان کی دوبارہ قبر کشائی کی گئی اور انہیں نکال کر کسی دوسری جگہ دفن کیا گیا، کیونکہ سیلاب کی وجہ سے قبریں مسمار ہو چکی تھیں نیز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وہاں پانی کا ایک چشمہ جاری کرنا چاہتے تھے۔ [2] بہرحال اگر میت کو دفن کیے ہوئے زیادہ عرصہ بیت گیا ہو تو میت کو نکالنے کے بجائے قبر کو ہی درست کر دیا جائے، عام طور پر دفن کے چھ ماہ بعد زمین میت پر اثر انداز ہونے کا آغاز کرتی ہے، اگر میت کے خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو اسے نکال کر کفن سے مٹی وغیرہ دور کر دی جائے پھر اسے دفن کر دیا جائے، ایسا کرنا صرف جائز ہے ضروری نہیں، اس گنجائش کے باوجود ہمارا ذاتی رجحان یہ ہے کہ میت کو اپنی جگہ پر رہنے دیا جائے اور صرف قبر پر مٹی ڈال کر اسے درست کر دیا جائے، کیونکہ معلوم نہیں میت کس حالت میں ہو؟ ایسا نہ ہو کہ اسے نکال کر کسی دیگر پریشانی میں مبتلا ہو جائیں۔ (واللہ اعلم) مردہ پیدا ہونے والے بچے کا جنازہ سوال:جو بچہ مردہ پیدا ہو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے، نیز اسے کہاں دفن کیا جائے؟ ہمارے ہاں اس کا نہ تو جنازہ پڑھا جاتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستانوں میں اسے دفن کیا جاتا ہے، اس کے متعلق وضاحت کریں۔ جواب:نومولود بچہ اگر فوت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا مشروع ہے، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بچے کی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔‘‘ [3] ایک روایت بایں الفاظ ہے: ’’ناتمام بچے کی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔‘‘ [4] [1] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱۳۵۱۔ [2] موطا امام مالک، کتاب الجہاد [3] جامع ترمذی، الجنائز: ۱۰۳۱۔ [4] ابوداود، الجنائز: ۳۱۸۰۔