کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 169
بہرحال سوال میں جو موقف پیش کیا ہے، اسے احناف نے عقلی طور پر اختیار کیا ہے، کتاب و سنت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) نماز جنازہ کی قراءت سوال : نماز جنازہ میں قراء ت آہستہ کرنی چاہیے یا باآوازبلند قراء ت کی جائے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب:نماز جنازہ میں قراء ت آہستہ اور باآواز بلند دونوں طرح ثابت ہے، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی، اس میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورت کو بھی ملایا اور انہیں اونچی آواز سے پڑھا، جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ یہ حق اور سنت ہے۔ [1] اونچی آواز سے قراء ت کرنے کی تائید ایک دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے، حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی تو ہم نے آپ کی جنازہ میں پڑھی ہوئی دعا یاد کر لی۔ [2] امام کے پیچھے کھڑے ہو کر دعا اس وقت یاد کی جا سکتی ہے جب وہ اونچی آواز سے نماز جنازہ پڑھا رہا ہو، اس لیے نماز جنازہ میں اونچی آواز سے قراء ت کی جا سکتی ہے، البتہ آہستہ قراء ت کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ حضرت ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ’’سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد آہستہ آواز سے سورۂ فاتحہ پڑھی جائے پھر تین تکبیریں کہی جائیں اور آخری تکبیر کے بعد سلام پھیر دیا جائے۔ [3] بہرحال نماز جنازہ میں قراء ت کے متعلق توسع ہے، اونچی اور آہستہ آواز سے دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ نماز جنازہ کے بعد میت کا منہ دیکھنا سوال:نماز جنازہ کے بعد میت کا منہ دیکھا جاتا ہے، کیا یہ عمل سنت سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔ جواب:نمازجنازہ کے بعد میت کا منہ دیکھنا جائز ہے خواہ جنازہ سے پہلے ہو یا بعد میں لیکن اسے جنازے کا جزو نہ بنایا جائے۔ اگر چہرہ نہ دیکھا جائے تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بہرحال میت کا چہرہ دیکھنا مشروع ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ جب میرے والد گرامی غزوۂ احد میں شہید ہوئے تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا، اس وقت میں رو رہا تھا، لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے روکا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منع نہیں کرتے تھے۔ [4] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا، انہوں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا پھر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا۔[5]مام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے ’’جب میت کو کفن میں لپیٹ دیا جائے تو اسے دیکھنا اور اس کے پاس جانا۔‘‘ بہرحال میت کو کفن دینے کے بعد اس کا چہرہ کھولا جا سکتا ہے اور اس کا منہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ (واللہ اعلم) [1] نسائی، الجنائز:۱۹۹۰۔ [2] مسند امام احمد،ص:۲۳،ج۶۔ [3] سنن نسائی، الجنائز:۱۹۹۱۔ [4] صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۴۴۔ [5] صحیح بخاری، الجنائز: ۲۱۴۱۔