کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 164
بھی درست نہیں، اس کے ناجائز ہونے کی کئی ایک وجوہات ہیں، جن میں سے ہم نے صرف ایک علت کو بیان کیا تھا کہ قبرستان قراءت قرآن کا محل نہیں، لہٰذا وہاں قرآن خوانی کا اہتمام خلاف شریعت ہے، اس عبارت کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ جن مقامات میں قرآن پڑھا جا سکتا ہے وہاں مروجہ قرآن خوانی جائز ہے، بہرحال ہمارے رجحان کے مطابق مروجہ قرآن خوانی برائے حصول برکت یا شفاء مریضاں یا ترقی کاروبار یا ایصال ثواب ناجائز ہے، کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ عمل ثابت نہیں ہے، اگر ایسا کرنا خیروبرکت کا ذریعہ ہوتا تو اسلاف ضرور عمل میں لاتے، خیرالقرون میں اس کا اہتمام نہ کرنا اس کے محل نظر ہونے کے لیے کافی ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو شخص ہمارے اس امر دین میں نیا کام کرتا ہے وہ مردود اور ناقابل قبول ہے۔‘‘ [1] نیز آپ کا فرمان ہے: ’’جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہماری مہر ثبت نہیں وہ رد کر دینے کے قابل ہے۔‘‘ [2] اس طرح کے غیر مشروع کام کوجائز قرار دینا انتہائی سنگین اقدام ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دین مکمل نہیں ہوا تھا، حالانکہ قرآن کریم نے صراحت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دین اسلام مکمل ہو چکا تھا، اب اس میں کسی چیز کے اضافہ کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، ایسا کرنا بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ بہرحال مروجہ قرآن خوانی بدعت ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (وا ﷲ اعلم) [1] صحیح بخاری، الصلح: ۲۶۹۷۔ [2] صحیح مسلم، الاقضیہ: ۱۷۱۸۔