کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 162
جواب: اجتماعی دعا کی حیثیت بیان کرنے سے قبل ہم ایک اصولی بات بیان کرتے ہیں کہ جو کام رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ضروری بھی ہو اور اسے کرنے کے لیے کوئی رکاوٹ بھی موجود نہ ہو، اس کے باوجود پورے عہد نبوت میں اسے کوئی نہ کرے مگر اس طرح کا کام اگر کوئی ہمیشہ کرے اور دوسروں کو اس کی دعوت دے تو بلاشبہ یہ عمل بدعت کے زمرہ میں شمار ہوگا، ایک اور بات بھی قارئین کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ فرض نماز ایک الگ عبادت ہے اور ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا ایک الگ عبادت ہے اور جب کسی شرعی دلیل کے بغیر دو الگ الگ عبادتوں کو ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ ہمیشہ ایک ساتھ ادا کیا جائے کہ دونوں ایک دوسرے کا حصہ معلوم ہوں اور جو شخص ان عبادات کو مروجہ طریقہ کے مطابق ادا نہ کرے اسے برا بھلا کہا جائے تو ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ہو گا کیونکہ جب مختلف عبادات کو اپنی مرضی سے یکجا کر کے ایک نیا طریقہ رائج کیا جائے گا تو یہ سنت نہیں بلکہ بدعت ہوجائے گا، اس وضاحت کے بعد ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی موقع کی سنت کے ساتھ ایک اور سنت آملے تو ایسے حالات میں دونوں سنتوں کو بجا لانا درست ہے مثلاً فرض نماز سے فراغت کے بعد لوگ مسنون اذکار کی ادائیگی میں مصروف ہیں اچانک کسی نے کہا کہ بیماروں کے لیے دعا کریں تو کسی کے مطالبے پر دعا کرنا بھی سنت ہے۔ لہٰذا ایسے حالات میں دعا کرنا جائز ہے، حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ میں مصروف تھے ایک آدمی نے بارش کے لیے دعا کرنے کی اپیل کر دی تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ چھوڑ کر ہاتھ اٹھائے، آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے، آپ نے بارش کے لیے اجتماعی دعا فرمائی۔ [1] لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اجتماعی دعا کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے دعا شفا کی اپیل کرنے والوں کی ڈیوٹیاں لگا دی جائیں کہ فلاں نماز کے بعد فلاں آدمی نے دعا کی اپیل کرنی ہے تاکہ اجتماعی دعا کا عمل جاری رہے اور اس میں انقطاع نہ آئے، ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی امام اس سازش کو بھانپ کر دعانہیں کرتا تو اسے دعا کا منکر نہیں کہنا چاہیے بلکہ ہمیں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنی چاہیے، بہرحال ہم لوگ اس سلسلہ میں افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ اس سے اجتناب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ٭ دعاکے اختتام پر رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ کے الفاظ ادا کرنا سنت سے ثابت نہیں ہیں اور نہ ہی ان الفاظ کے پڑھنے کو سنت کا درجہ دیا جائے، دراصل حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب بیت اﷲ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو انہوں نے ان الفاظ سے دعا کی تھی: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ﴾ [2] ’’اے پروردگار! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرمالے، بلاشبہ تو ہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ اگر کوئی دعا کرنے کے بعد ان الفاظ کو اس لیے پڑھتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے قبولیت دعا کی اپیل کی جائے تو اس کی گنجائش ہے لیکن اس پر دوام اور استمرار درست نہیں کیونکہ سننے والوں کو یہ وہم ہو گا کہ شاید ایسا کرنا مسنون ہے اور دعا کا ایک حصہ ہے، بہرحال اگر اسے سنت خیال نہ کیا جائے تو ان قرآنی الفاظ کو دعا کے اختتام پرپڑھنے کا جواز ہے۔ ٭ دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنا ایک عمل ہے اور یہ عمل صحیح سنت سے ثابت نہیں ہے، اس کے متعلق حضرت عبداﷲ بن [1] صحیح بخاری، الاستسقاء: ۱۰۲۹۔ [2] ۲/البقرہ: ۱۲۷۔