کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 159
مسنون ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر جاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کرتے، سورۂ اخلاص اور معوذتین پڑھ کر ان میں پھونک مارتے پھر انہیں حسب استطاعت تمام بدن پر پھیرتے، اس کا آغاز اپنے سر سے کرتے پھر چہرے پر پھر جسم کے اگلے حصہ پر، اس عمل کو تین مرتبہ کرتے۔ [1] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک دوسری روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود معوذتین پڑھ کر دم کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تکلیف ہو گئی تو میں معوذتین پڑھتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اس میں پھونک مارتی پھر اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرتی تاکہ ان سورتوں کی برکت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہو۔ [2] اس لیے دم کر کے اپنے ہاتھوں پر پھونک مارنے، پھر انہیں جسم پر پھیرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ قرآنی آیات پڑھنے سے انسان کی پھونک میں برکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہی برکت تمام جسم کو مس کرتی ہے اس سے اﷲ تعالیٰ آفات وبلیات سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن آج کل عاملین حضرات نے دم کرنے کا ایک نیا طریقہ رائج کیا ہے کہ موبائل اور فون میں پھونک مارتے ہیں اور بیمار کو پہلے سے تلقین کی ہوتی ہے کہ وہ اپنے موبائل یا رسیور کو متاثرہ جگہ پر رکھ لے، قبل ازیں ایک یہ بھی طریقہ رائج تھا کہ سپیکر میں کچھ پڑھ کر پھونک ماری جاتی اور مریدین کو پہلے سے کہہ دیا جاتا کہ وہ پانی سے بھری ہوئی بوتلوں کے ڈھکن اتار دیں تاکہ سپیکر یا فون کے ذریعے وہ برکت پانی میں حلول کر جائے۔ ہمارے نزدیک ایسا دم محلِ نظر ہے اور اس قسم کے روحانی علاج سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ (واﷲ اعلم) قبولیت دعا کے اوقات سوال: وہ کون سے اوقات ہیں جن میں دعا قبول ہوتی ہے نیز ان شخصیات کی بھی نشاندہی کریں جن کی دعا اﷲ کے ہاں شرف پذیرائی سے نوازی جاتی ہے۔ جواب: دعا ایک عبادت ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ دعا عبادت ہے پھر آپ نے تائید کے طور پر آیت کریمہ تلاوت فرمائی: ’’تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، جو لوگ میری عبادت سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں وہ عنقریب ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘ [3] ایک حدیث میں ہے کہ دعا ہی تو اصل عبادت ہے۔ [4] اگر دعا کرنے کے بعد ہمیں مطلوبہ چیز حاصل نہ ہو تو عبادت تو کسی صورت میں ضائع نہیں ہو گی۔ لیکن اس کے کچھ آداب اور شرائط ہیں۔ پہلا ادب یہ ہے کہ خلوص دل سے دعا کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرتے وقت اﷲ کے علاوہ کسی اور سے سوال نہ کیا جائے نیز دعا کرنے میںجلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے وہ اس طرح کہ اگر دعا کا نتیجہ سامنے نہ آئے تو انسان اﷲ سے دعا کرنا ہی ترک کر دے۔ [5] [1] صحیح بخاری، فضائل قرآن: ۵۰۱۷۔ [2] بخاری، فضائل قرآن: ۵۰۱۶ [3] المومن: ۶۰۔ [4] ابن ماجہ، الدعا: ۳۸۲۹۔ [5] صحیح مسلم، الذکر: ۶۹۳۶۔