کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 154
نماز عید کی تکبیرات سوال :عیدین کی نماز میں کتنی تکبیریں ہیں نیز بتائیں کہ کیا وہ قراءت سے پہلے ہیں؟ اگر کوئی امام یہ تکبیریں بھول جائے اور قراءت شروع کر دے تو کیا عید کی نماز ہو جائے گی؟ جواب: عیدین کی نماز میں تکبیروں کو ’’تکبیرات زوائد‘‘ کہا جاتا ہے، قراءت سے پہلے پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ ہیں، جیسا کہ حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ [1] ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک ایک درمیانی آیت کی مقدار ٹھہرنا چاہیے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے طبرانی کے حوالہ سے ایک روایت نقل کی ہے: ’’ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک کلمہ کی مقدار کا فاصلہ ہونا چاہیے۔‘‘ [2]تکبیرات زوائد کی حیثیت یہ ہے کہ ان کی ادائیگی سنت ہے اگرچہ کچھ حضرات ان کی فرضیت کے قائل ہیں، تاہم جمہور اہل علم نے ان تکبیرات کو سنت کہا ہے۔ امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ’’تکبیرات زوائد اور ان کے درمیان ذکر سنت ہے، واجب نہیں، اگر کوئی انہیں دانستہ بھی ترک کر دے تو نماز باطل نہیں ہو گی اور نہ ہی بھول کر چھوڑنے سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے، اس میں کسی اہل علم کا اختلاف نہیں ہے۔ اگر کوئی تکبیرات زوائد بھول جائے اور قراءت شروع کر دے تو دوبارہ اس کا اعادہ نہیں کرے گا۔‘‘ [3] مختصر یہ کہ ان کی مقدار بارہ ہے، سات پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے اور پانچ دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے اور اگر کوئی دانستہ یا بھول کر ترک کر دے تو اس سے نماز باطل نہیں ہو گی اور نہ ہی اس پر کوئی سجدہ سہو ہے۔ (واﷲ اعلم) عیدین کےموقع پر تکبیرات پڑھنا سوال عیدین کے موقع پر تکبیرات کا آغاز کب کرنا چاہیے اور ان کے کیا الفاظ ہیں، نیز عورتیں بھی تکبیرات کہہ سکتی ہیں؟ کتاب وسنت کے مطابق راہنمائی کریں۔ جواب عیدالفطر کے موقع پر چاند دیکھ کر تکبیرات کا آغاز کر دیا جائے اور نماز عید سے فراغت کے بعد انہیں چھوڑ دیا جائے اور عیدالاضحی میں ۱۳ ذوالحجہ کی شام تک کہی جائیں، خاص طور پر عیدگاہ جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیریں کہنی چاہئیں۔ عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ بھی تکبیریں کہیں جیسا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم عید کے روز حائضہ عورتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ وہ تکبیرات کہنے میں لوگوں کے ساتھ شریک ہوں۔ [4] ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا دسویں تاریخ میں تکبیرات کہتی تھیں نیز خواتین ابان بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تکبیریں کہا کرتی تھیں۔ [5] تکبیرات کے الفاظ حسب ذیل ہیں: [1] ترمذی، الجمعہ: ۵۳۶۔ [2] تلخیص الحبیر، ص: ۸۵، ج۲۔ [3] المغنی، ص: ۲۷۵، ج۳۔ [4] صحیح بخاری، العیدین: ۹۷۷۔ [5] صحیح بخاری، تعلیقات قبل حدیث : ۹۷۰۔