کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 153
جمعہ سے پہلے اور فراغت کے بعد رکعات پڑھنا سوال :جمعہ سے پہلے اور فراغت کے بعد کتنی رکعات پڑھنا مسنون ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب:جمعہ سے پہلے نفل پڑھنے کی تعداد متعین نہیں ہے، جمعہ کے لیے آنے والے کو حسب توفیق نوافل پڑھ لینے چاہئیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو جمعہ کے دن غسل کرے، پھر جمعہ پڑھنے کے لیے آئے اور جس قدر اس کے مقدر میں ہو نماز پڑھ لے پھر خاموشی سے اس وقت تک بیٹھا رہے جب تک امام خطبہ سے فارغ نہ ہو۔ اس کے بعد امام کے ساتھ فرض نماز ادا کرے تو اس کے دونوں جمعوں کے درمیانی گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور مزید تین دن کے اور بھی۔‘‘ [1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ سے پہلے نماز پڑھنے کی کوئی حد متعین نہیں ہے البتہ دوران خطبہ آنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دو رکعت پڑھ کر بیٹھے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعت ادا کرے اور ان دونوں کو اختصار کے ساتھ پڑھے۔ [2] نماز جمعہ کے بعد نوافل ادا کرنے کے متعلق دو روایات ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز جمعہ ادا کرے تو اس کے بعد چار رکعات ادا کرے۔ [3] ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو وہ چار رکعات ادا کرے۔‘‘ [4] ٭ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعت ادا کرتے تھے۔ [5]صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن گھر واپس آنے تک کوئی نماز نہ پڑھتے تھے، گھر آکر دو رکعت ادا کرتے۔ [6] ان دو مختلف روایات میں دو طرح سے تطبیق دی گئی ہے۔ 1) نماز جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنا افضل ہیں کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ پھر تعداد میں اضافہ اجروثواب میں اضافے کا باعث ہو گا، لیکن اگر کوئی دو رکعت پڑھ لے توبھی جائز ہے۔ 2) اگر کوئی مسجد میں پڑھے تو چار رکعات ادا کرے اور انہیں دو، دو کر کے پڑھے اور اگر کوئی گھر آکر پڑھنا چاہے تو دو رکعت پڑھے جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بیان ہوا ہے۔ بہرحال جمعہ کا دن بڑی فضیلت کا حامل ہے، اس دن کثرت سے عبادت کی جائے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود پڑھا جائے، نوافل کی ادائیگی میں سستی نہ کی جائے نیز اس دن خطبہ سے پہلے مسجد میں آنے کی کوشش کی جائے۔ [1] صحیح مسلم، الجمعہ: ۸۵۷۔ [2] ابو داود، الجمعہ: ۱۱۱۷۔ [3] صحیح مسلم، الجمعہ: ۸۸۱۔ [4] جامع ترمذی، الجمعہ: ۵۲۳۔ [5] مسند امام احمد، ص: ۱۰۳، ج۲ [6] صحیح بخاری، الجمعہ: ۹۳۷۔