کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 148
گئے، اس سے بچوں کا عیدگاہ جانا ثابت ہوتا ہے، لیکن ہمارے رجحان کے مطابق بچوں کو چند شرائط کے ساتھ عیدگاہ لے جانا جائز ہے جو حسب ذیل ہیں: 1) وہ بچے سن شعور کو پہنچ چکے ہوں کیونکہ سات سال کی عمر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو نماز پڑھنے کے متعلق کہا ہے، اس عمر میں بچہ سمجھدار اور صاحب شعور ہو جاتا ہے۔ 2) عیدگاہ لانے سے پہلے ان کی تربیت کرنا ضروری ہے کہ عیداور عیدگاہ کے آداب کیا ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ عیدگاہ میں اودھم مچاتے رہیں اور انہیں کوئی باز پرس کرنے والا نہ ہو۔ 3) چھوٹے شیر خوار بچوں کو عیدگاہ لے جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود ماؤں اور دیگر خواتین وحضرات کی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ 4) شرارتی اور بے عقل بچوں کو بھی گھر میں رہنے دیا جائے۔ کیونکہ شرارتی بچوں کو دیکھ کر سنجیدہ بچے بھی اچھل کود میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ 5) بچے ماں کے بجائے باپ کے ساتھ ہوں تاکہ بوقت ضرورت ان پر کنٹرول کرنا آسان ہوتا کہ عیدگاہ میں دوسروں کی نماز خراب نہ کر سکیں۔ (واﷲ اعلم) نماز جمعہ کےساتھ نماز عصر ادا کرنا سوال: کیا نماز جمعہ کے ساتھ نماز عصر ادا کی جا سکتی ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔ جواب: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تفصیل کے ساتھ ہمیں نمازوں کے اوقات سے آگاہ کیا ہے اور ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا﴾[1] ’’بے شک نماز کا اہل ایمان پر مقررہ اوقات میں ادا کرنا فرض ہے۔‘‘ اس لیے اوقات مقررہ کے علاوہ دوسرے اوقات میں نماز ادا کرنا حدوداﷲ سے تجاوز ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾[2] ’’جو لوگ اﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں۔‘‘ ہاں بعض اوقات کسی مجبوری کی وجہ سے ایک نماز کو کسی دوسری نماز کے وقت میں ادا کیا جا سکتا ہے، وہ مجبوری سفر، مرض اوربارش وغیرہ ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی خطیب باہر سے آتا ہے اور اسے نماز جمعہ کے بعد سفر کرنا ہے تو اسے اجازت ہے کہ وہ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نماز عصر اس کے ساتھ ہی ادا کر لے۔ احادیث میں دوران سفر نمازوں کو جمع کرنے کا جواز ملتا ہے۔ اس عموم میں نماز جمعہ اور نماز عصر کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ممانعت کے متعلق اگر کوئی خصوصی دلیل ہے تو اسے پیش کیا جائے لیکن ہمارے علم کی حد [1] ۴/النساء: ۱۰۳۔ [2] ۲/البقرۃ: ۲۲۹۔