کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 147
بہرحال عورتوں کو چاہیے کہ وہ بھی تکبیرات کہیں لیکن اپنی آواز مردوں کی آواز سے پست رکھیں۔ مسجد میں نماز عید سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھنا سوال:اگر نماز عید مسجد میں پڑھی جائے تو کیا نماز عید سے پہلے تحیۃ المسجد کی دو رکعت پڑھ لینی چاہیے یا انہیں ادا کیے بغیر ہی بیٹھ جائے۔ قرآن وحدیث میں اس کے متعلق کیا وضاحت ہے؟ جواب :نماز عید سے پہلے کسی قسم کی نماز سنت یا نفل پڑھنا ثابت نہیں ہے، ایک حدیث میں وضاحت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعت نماز پڑھائی جبکہ دو رکعتوں سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [1] البتہ عیدگاہ سے فارغ ہونے کے بعد گھر جا کر دو رکعت پڑھی جا سکتی ہیں جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عید سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے البتہ جب اپنے گھر کی طرف لوٹتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ [2] البتہ سوال میں ذکر کردہ تحیۃ المسجد کی دو رکعت سے ضرور مغالطہ ہوتا ہے، واقعی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک مسجد میں نہ بیٹھے جب تک دو رکعت نماز ادا نہ کر لے۔ [3]اس روایت کی بنا پر تحیۃ المسجد کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھی، اس لیے ہمارے رجحان کے مطابق بہتر یہ ہے کہ نماز عید سے پہلے کوئی نفل وسنت نہ پڑھے جائیں خواہ نماز عید مسجد میں ہی کیوں نہ ادا کی جائے، کیونکہ لوگ اپنی ناواقفیت کی وجہ سے ان دو رکعت کو نماز عید کا کچھ حصہ سمجھ کر ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ (وا ﷲ اعلم) بچوں کو عید گاہ لے جانا سوال: بچوں کو عیدگاہ لے جانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جن عورتوں کے بچے ساتھ ہوتے ہیں وہ نماز عید اور خطبہ عید میں خلل کا باعث بنتے ہیں۔ بچوں کے متعلق نماز عید کے حوالہ سے شرعی ہدایات کیا ہیں؟ براہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ جواب :امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں طور پر قائم کیا ہے ’’بچوں کو عیدگاہ لے جانا۔‘‘ [4] حالانکہ اس حدیث میں بچوں کو عیدگاہ لے جانے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ دراصل امام بخاری بہت بڑے فقیہ اور روشن دماغ رکھنے والے ہیں۔ آپ نے اس حدیث کے ایک طرق کی طرف اشارہ کیا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ آیا آپ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ باہر جایا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ اگر اصغر سنی کے باوجود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میرا مرتبہ ومقام نہ ہوتا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کیوں لے جاتے، اس کے بعد آپ نے مذکورہ حدیث بیان فرمائی۔ [5] امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مطلب یہ ہے کہ خود ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت چھوٹی عمر کے تھے جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عیدگاہ [1] صحیح بخاری، العیدین: ۹۸۹۔ [2] ابن ماجہ، اقامۃ الصلوٰت: ۱۲۹۳۔ [3] بخاری، التہجد: ۱۶۳۔ [4] صحیح بخاری، العیدین، باب نمبر ۱۶۔ [5] صحیح بخاری، الاذان: ۸۶۳۔