کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 143
رخ پھیرتے اور لوگوں کے بالمقابل کھڑے ہو جاتے۔ [1] یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ عید کے موقع پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر استعمال نہیں کیا، البتہ ابن حبان کی روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا [2] علامہ ہیثمی نے اس روایت کے رجال کو ’’صحیح کے رجال‘‘ کہا ہے۔ [3] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی سواری پر بیٹھ کر خطبہ دیا جا سکتا ہے، عید گاہ میں منبر لے جانا، مروانی سنت ہے چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عیدین کے متعلق معاملہ اسی طرح برقرار رہا حتی کہ میں ایک دفعہ مروان کے ہمراہ عید گاہ گیا تو میں نے وہاں ایک منبر بنا ہوا دیکھا ہے جسے کثیر بن صلت نے تیار کیا تھا، مروان نماز پڑھنے سے قبل اس پر چڑھنے لگا تو میں نے اس کے کپڑے پکڑ کر نیچے کھینچنا چاہا لیکن وہ مجھ پر غالب آگیا اور منبر پر چڑھ کر نماز عید سے پہلے خطبہ دینے لگا، میں نے اسے کہا کہ تم لوگوں نے دینی معاملات کو تبدیل کر دیا ہے۔ [4] بہرحال عیدگاہ میں منبر لے جانا مسنون نہیں ہے اگر کسی مجبوری کی وجہ سے مسجد میں نماز عید پڑھنی پڑے تو سنت کی پاسداری کرتے ہوئے منبر کو استعمال نہ کیا جائے، منبر کے بغیر ہی خطبہ دیا جائے، البتہ سہارے کے لیے کسی چیز کو استعمال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لیا تھا، حدیث کے الفاظ ہیں: ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، تقویٰ کا حکم دیا اور اطاعت کرنے کی تلقین کی۔‘‘ [5] بہرحال عیدین کی نماز کھلے میدان میں ادا کی جائے اور خطبہ کے لیے منبر استعمال نہ کیاجائے، اگر کسی مجبوری کے پیش نظر مسجدمیں نماز عید ادا کرنی پڑے تو بھی منبر استعمال نہ کیا جائے تاکہ سنت کی خلاف ورزی نہ ہو۔ (واﷲ اعلم) عیدگاہ میں عید سے پہلے اشراق کی نماز پڑھنا سوال :بعض لوگ عیدگاہ میں نماز عید سے پہلے اشراق کی نماز پڑھتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا عیدگاہ میں نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟ جواب:عیدگاہ میں کسی قسم کے نفل نہیں پڑھنے چاہئیں، صرف نماز عید کی ادائیگی پر اس سے پہلے یا بعد میں نفل پڑھنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے روز دو رکعت نماز پڑھائی، ان سے پہلے اور بعد کوئی نفل نہیں پڑھے۔ [6] اکثر ائمہ کرام کا فتویٰ ہے کہ عیدگاہ میں امام اور مقتدی دونوں کو نفل پڑھنا مکروہ ہیں، البتہ عید گاہ سے فارغ ہونے کے بعد گھر آکر دو رکعت پڑھی جا سکتی ہیں کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عید سے قبل کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے، البتہ گھر آکر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ [7]اس لیے عیدگاہ میں نماز اشراق کا اہتمام صحیح نہیں ہے۔ (واﷲ اعلم) [1] صحیح بخاری، العیدین: ۹۵۶۔ [2] الاحسان، ص: ۶۵، ج۷۔ [3] مجمع الزوائد، ص: ۶۰۵، ج۲۔ [4] صحیح بخاری، العیدین: ۹۵۶۔ [5] صحیح مسلم، العیدین: ۵۵۸۔ [6] صحیح بخاری، العیدین: ۹۸۹۔ [7] ابن ماجہ، اقامۃ الصلوٰۃ: ۱۲۹۳۔