کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 138
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے۔ ’’نماز کی طرف بھاگ کر نہ آئے بلکہ سکون و وقار کے ساتھ جماعت میں شمولیت کرے۔‘‘ [1] البتہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایسی تیز رفتاری میں کوئی حرج نہیں جو معیوب نہ ہو اور نہ انسانی وقار کے منافی ہو، ہمارے رجحان کے مطابق سکون و وقار کے ساتھ آنا اور جلد بازی نہ کرنا افضل ہے، خواہ اس کی رکعت ہی فوت ہو جائے۔ حدیث کے عموم کا یہی تقاضا ہے۔ فوت شدہ نماز کی قضا سوال:ہمارے والد محترم دو دن تک بے ہوش رہے، اس دوران انہیں کسی چیز کا شعور نہیں تھا، کیا ان پر فوت شدہ نمازوں کی قضا ضروری ہے؟ کتاب و سنت کے مطابق وضاحت کریں۔ جواب:جو شخص بے ہوش رہا اور اسے کسی چیز کا شعور نہیں تھا تو اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے، البتہ جن عبادات کا تعلق اس کے مال سے ہے وہ ادا کرنا ہوں گی اور بدنی عبادتیں مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ ایسے شخص سے ساقط ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ پر ایک دن رات بے ہوشی طاری رہی تو انہوں نے اس دوران فوت ہونے والی نمازوں کی قضا نہیں دی تھی۔ [2] البتہ بے ہوش آدمی کے مال سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہو گی، اس کی ادائیگی ضروری ہے، ہمارے نزدیک اگر بے ہوشی، بغیر سبب کے ہو تو بدنی عبادات ساقط ہو جاتی ہیں اور اگر اس کا کوئی سبب ہو مثلاً شراب نوشی یا بھنگ وغیرہ کے استعمال سے بے ہوشی طاری ہو تو اس قسم کی بے ہوشی میں نمازیں ساقط نہیں ہوں گی۔ بلکہ اس دوران فوت شدہ نمازوں کی قضا ضروری ہے، سوئے ہوئے انسان کو بے ہوش قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ سوئے ہوئے انسان میں ادراک ہوتا ہے اگر اسے بیدار کیا جائے تو وہ بیدار ہو سکتا ہے لیکن بے ہوش انسان میں ادراک نہیں ہوتا کہ اگر اسے بیدار کیا جائے تو وہ بیدار نہیں ہو سکتا، سوئے ہوئے انسان کے متعلق ارشاد نبوی ہے: ’’جو شخص نماز بھول جائے یا اس سے سویا رہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے جب یاد آئے تو پڑھ لے۔‘‘ [3] اس لیے بے ہوش انسان سے نماز ساقط ہے اور سوئے ہوئے کے ذمے واجب الاداء ہے۔ (واللہ اعلم) جان بوجھ کر نماز دیر سے پڑھنا سوال:ہمارے ایک نمازی، دیر سے نماز پڑھتے ہیں اور تکبیر کہہ کر اکیلے ہی جماعت کراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے نماز باجماعت کا ثواب ملتا ہے، قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کوئی وضاحت ہے، براہِ کرام ہماری اس سلسلہ میں راہنمائی کریں۔ جواب:نمازی کو چاہیے کہ وہ باجماعت نماز اد اکرے اور اسے معمول بنائے، اگر کبھی دیر سے آئے تو اکیلا بھی پڑھ سکتا ہے اور نمازیوں میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ شامل ہو جائے تو نماز باجماعت کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] صحیح بخاری، الاذان، باب:۲۱۔ [2] مصنف عبدالرزاق،ص:۴۷۹،ج۲۔ [3] صحیح بخاری، المواقیت: ۵۹۷۔