کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 132
جبکہ ابوداؤد میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ پھیلا کر وضاحت فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران نماز اس طرح جواب دیتے تھے۔[1] دراصل شریعت بعض اوقات کسی انسان کی حسن نیت کے پیش نظر اس کے کسی عمل کو افضل ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ صرف جواز کی حد تک گورا کر لیتی ہے۔ اس لیے ایسے اعمال کو مسنون ہونے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا، جیسا کہ آدمی نے دوران جماعت رکوع سے اٹھ کر باآواز بلند ’’کلمات تحمید‘‘ ادا کیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اخلاص کے پیش نظر اس کی تحسین فرمائی لیکن خود اس پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی دوسروں کو یہ عمل بجا لانے کی تلقین فرمائی، دوران جماعت سلام کہنا بھی اسی قبیل سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کم از کم تین مرتبہ دورانِ جماعت نماز میں شامل ہوئے ہیں لیکن آپ کا نمازیوں کو سلام کہنا کسی روایت سے ثابت نہیں ہے، اگر یہ افضل عمل ہوتا تو آپ اسے ضرور بجا لاتے، اسی طرح اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے جواز کی حد تک برقرار رکھا ہے۔ پھر آپ کے جواب دینے کی جو دو صورتیں ہیں اس سے بھی اس کا افضل ہونا ثابت نہیں صرف جواز ثابت ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم) فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا سوال:ہمارے معاشرہ میں کچھ بزرگ فجر کی سنت ادا کرنے کے بعد دائیں پہلو پر لیٹنے کا اہتمام کرتے ہیں، جبکہ نوجوان نسل میں یہ اہتمام متروک ہوتا جا رہا ہے، اس کی حیثیت پر روشنی ڈالیں۔ جواب:فجر کی سنتوں کے بعد دائیں پہلو پر لیٹنا ایک مستحب عمل ہے ضروری نہیں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں دو عنوان قائم کیے ہیں پہلا عنوان یہ ہے کہ ’’فجر کی سنتوں کے بعد دائیں پہلو پر لیٹنا‘‘ اسے ثابت کرنے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ لیتے تو اپنے دائیں پہلو پرلیٹ جاتے۔[2] دوسرا عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’جو شخص سنتوں کے بعد گفتگو کرے اور لیٹنے کا اہتمام نہ کرے‘‘ اس کے لیے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کردہ ایک حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو سنت پڑھ لیتے تو اگر میں بیدار ہوتی تو میرے ساتھ محو گفتگو ہوتے بصورت دیگر آپ لیٹ جاتے تا آنکہ جماعت کا وقت ہو جاتا۔ [3] ان روایات کی روشنی میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا ضروری نہیں ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ امر ثابت ہے اس لیے اس کا اہتمام کرنا استحباب کا درجہ رکھتا ہے اور باعث ثواب ہے۔ بعض مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم بھی دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹے۔ [4] اس امر کے پیش نظر بعض ائمہ کرام نے سنتوں کے بعد لیٹنے کے عمل کو واجب قرار دیا ہے لیکن یہ موقف محل نظر ہے، ہمارے نزدیک یہ عمل مستحب ہے اگرچہ بعض مقامات پر اس عمل کو چھوڑ دیا گیا ہے جسے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس سلسلہ میں [1] ابوداود، الصلوٰۃ: ۹۲۷۔ [2] بخاری، التہجد: ۱۱۶۱۔ [3] صحیح بخاری، التہجد: ۱۱۶۱۔ [4] مسند امام احمد، ص:۴۱۵،ج۲۔