کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 131
کرنے کی اجازت ہے جس سے نمازی حضرات کا خشوع متاثرہو لیکن بعض کام ایسے ہیں جو نماز کا حصہ نہ ہونے کے باوجود بھی دوران نماز کیے جا سکتے ہیں کیونکہ شریعت نے ان کی اجازت دی ہے، اس طرح کچھ کام ایسے ہیں کہ باہر سے آنے والا انہیں سر انجام دے سکتا ہے اگرچہ اس سے کسی حد تک نمازی کا خشوع متاثر ہوتا ہے۔ ان میں سلام کا کہنا اور اس کا مخصوص انداز سے جواب دینا بھی ہے، واضح رہے کہ نماز سے متعلقہ احکام کی تکمیل کئی ایک مراحل میں ہوتی ہے۔ چنانچہ پہلے دوران نماز باہر سے آنے والوں کو سلام کہنے اور نمازیوں کو اس کا جواب دینے کی اجازت تھی، لیکن بعد میں اجازت کو ختم کر دیا گیا چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ رہے ہوتے تو ہم آپ کو سلام کہتے اور آپ اس کا دوران نماز جواب بھی دیتے تھے لیکن جب ہم حبشہ کے فرمانروا حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ کے پاس سے واپس مدینہ آئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول دوران نماز سلام کہا لیکن آپ نے اس کا جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اس سے متعلق طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو میں نے اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ’’نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔‘‘[1] ایک روایت میں ہے کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے میری طرف اشارہ فرمایا۔ [2] ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دوران نماز سلام کہا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرنا ضروری نہیں ہے کہ اگر نہ کہا جائے تو کسی فرض کا تارک قرار پائے گا، اس لیے باہر سے آنے والے کو چاہیے کہ وہ اگر سلام کہنا چاہتا ہے تو باآواز بلند سلام ’’پھینکنے‘‘ کی بجائے نہایت شائستگی سے سلام کہے، نماز میں مصروف انسان کے لیے اس کا جواب کہنا دو طرح سے جائز ہے۔ 1 نماز سے فراغت کے بعد زبان سے اس کا جواب دے دے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران نماز سلام کہا تو آپ نے فراغت کے بعد اس کا جواب دیا اور اس کے ساتھ ساتھ وضاحت بھی کر دی۔ [3] 2 دوران نماز اپنے ہاتھ کے اشارہ سے بھی جواب دیا جا سکتا ہے لیکن زبان سے کچھ نہیں کہنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد قباء تشریف لے گئے وہاں آپ نے نماز پڑھی تو وہاں مقیم انصاری حضرات دوران نماز آپ کو سلام کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تھے، اس لیے میں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ [4] حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے بھی یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے دیا تھا ۔[5] [1] صحیح مسلم، المساجد: ۱۲۰۱۔ [2] صحیح مسلم، حدیث نمبر:۱۲۰۵۔ [3] ابوداود، الصلوٰۃ:۹۲۴۔ [4] ابن ماجہ، اقامۃ الصلوٰت: ۱۰۱۷۔ [5] جامع الترمذی، الصلوٰۃ:۳۶۸۔