کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 116
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق تین دن اور تین رات کے قیام والا ایک مسافر انسان مقیم کے حکم میں نہیں آتا بلکہ اس قدر قیام کرنے سے اس کی مسافرانہ حیثیت برقرار رہتی ہے، اس سے زیادہ دنوں کا قیام اگر یقینی طور پر ہے تو یہ اس کی مسافرانہ حیثیت کے منافی ہے اور ایسے حالات میں اسے پوری نماز پڑھنا ہو گی، ہاں اگر قیام کے دوران تردد اور بے یقینی کی کیفیت ہے تو ایسے حالات میں وہ جتنے دن بھی قیام کرے اسے نماز قصر ادا کرنے کی اجازت ہے۔ مذکورہ امام مسجد بھی شاید اسی قسم کی غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہوں کہ مجھے نامعلوم کب جماعت والے یہاں سے فارغ کر دیں لیکن سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پورے اذعان و یقین سے وہاں رہائش رکھے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مقتدیوں کو پوری نماز پڑھاتے ہیں، بہرحال ان کا کسی قریبی گاؤں میں جا کر نماز قصر پڑھنا محل نظر ہے، انہیں وہاں بھی پوری نماز پڑھنی چاہیے تھی۔ (واللہ اعلم) نماز استسقاء کا طریقہ سوال:نماز استسقاء کا کیا طریقہ ہے؟ کیا امام دوسری رکعت میں رکوع کے وقت قنوت وتر کی طرح کرے گا اور کیا وہ الٹے ہاتھوں دعا کرے گا؟ کتاب و سنت کے مطابق اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔ جواب:نماز استسقاء میں دوران نماز دعا کرنے کا ثبوت نہیں مل سکا بلکہ نماز سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ بارش کی دعا کی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی بناء پر قحط سالی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں منبر لے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہاں منبر رکھ دیا گیا، آپ نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ سب اس دن باہر نکلیں، پھر آپ اس وقت نکلے جب سورج کا ایک کنارہ ظاہر ہو چکا تھا، آپ منبر پر فروکش ہوئے۔ آپ نے لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی۔ آپ نے آہستہ آہستہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھانا شروع کیا حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اس کے بعد آپ لوگوں کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو الٹا کیا پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے تشریف لائے پھر دو رکعت ادا کیں، اللہ تعالیٰ نے اس لمحہ آسمان میں بادل ظاہر کیے وہ گرجے اوربجلی چمکی پھر بارش برسنے لگی۔‘‘ [1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دو رکعت پڑھنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور دعا مانگی۔ جب کہ حضرت ابن عباسرضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دو رکعت پڑھنے کے بعد خطبہ دیا لیکن وہ عام خطبہ نہیں تھا، بلکہ وہ انکساری، عاجزی، اللہ کی کبریائی اور دعا پر مشتمل تھا۔ [2] بارش کے لیے نماز ادا کیے بغیر بھی دعا کرنا مشروع ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ بارش کے لیے دعاکی تھی ممکن ہے کہ آپ نے جمعہ کی دو رکعت کو ہی کافی خیال کیا ہو، جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں ایک عنوان قائم کیا ہے۔[3] بارش کے لیے دعا کرتے وقت اپنے ہاتھ الٹے کرنے کے متعلق ہمارا مؤقف یہ ہے کہ الٹے ہاتھ دعا مانگنا منع ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم اللہ سے سوال کرو تو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے مانگا [1] ابواود، الصلوٰۃ:۱۱۷۳۔ [2] ترمذی، الصلوٰۃ:۵۵۵۔ [3] صحیح بخاری، الاستسقاء باب نمبر۹۔