کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 105
نہیں رکھ سکتا بلکہ اسے اپنی نگاہ قرآن مجید پر رکھنا پڑے گی۔ بہرحال دورانِ جماعت قرآن مجید کھول کر امام کی قراء ت سننا یا ساتھ ساتھ پڑھنا درست نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے متعدد خرابیاں لازماً آتی ہیں جو اسے نماز سے غافل کر سکتی ہیں، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر رمضان المبارک میں کسی پختہ سامع کا بندوبست نہ ہو سکے اور امام کا قرآن پختہ نہ ہو اور وہ بار بار بھولتا ہو تو کسی اچھے ناظرہ خواں کو یہ عمل سونپا جا سکتا ہے کہ وہ حافظ کا قرآن سنے اور بھول کے وقت امام کو متنبہ کرے۔ (واللہ اعلم) دوران نماز وساوس اور خیالات روکنے کا علاج سوال:مجھے دوران نماز بہت خیالات آتے ہیں، جب میں نماز شروع کرتی ہوں تو وساوس کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اس کے متعلق کوئی وظیفہ بتائیں۔ جواب:نماز ایک مسلمان کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے، اس لیے شیطان ہر ممکن اسے خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے، حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو اس قسم کی شکایت تھی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! شیطان میرے اور میری نماز پر قراء ت کے درمیان حائل ہو کر اسے خراب کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ شیطان ہے جسے خنزب کہا جاتا ہے، جب تم دوران نماز اس قسم کا اندیشہ محسوس کرو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو یعنی اعوذ باللہ کہو اور اپنے بائیں جانب ہلکا سا تین مرتبہ تھتکارو۔‘‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے نجات دے دی۔[1] اس حدیث کی روشنی میں اگر کسی کو نماز میں خیالات اور وسوسے آتے ہوں تو درج ذیل دو کام کرنا چاہئیں۔ 1) دوران نماز آہستہ سے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا چاہیے۔ 2) بائیں جانب تین مرتبہ تھو تھو کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے وساوس کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ (ان شاء اللہ) کرسی پر نماز پڑھنا سوال:ہماری مسجد میں مریضوں کے لیے کرسیاں رکھی گئی ہیں، بیمار اس پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، ان کے سامنے ایک تختی لگی ہے، جن پر سجدہ کیا جاتا ہے، کیا ایسا کرنے سے سجدہ ہو جاتا ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب:احادیث میں بیمار کے لیے نماز پڑھنے کا طریقہ بیان ہوا ہے: جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: 1) وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے خواہ ٹیڑھا کھڑا ہو یا دیوار کے سہارے یا بوقت ضرورت لاٹھی کا سہارا لے کر۔ 2) اگر کھڑا نہیں ہو سکتا تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور افضل ہے کہ چوکڑی مار کر بیٹھے۔ 3) اگر بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو قبلہ رخ لیٹ کر نماز پڑھ لے۔ اگر قبلہ رخ نہ ہو سکے تو جس طرف اس کا منہ ہو نماز پڑھ لے۔ اس کی نماز درست ہے۔ 4) بیمار کے لیے نماز میں رکوع و سجدہ ضروری ہے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو رکوع اور سجدہ سر کے اشارہ سے کرے اور سجدہ کرتے [1] صحیح بخاری، السلام: ۵۷۳۸۔