کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 103
حتیٰ کہ تجھے سجدہ میں اطمینان ہو جائے پھر سجدہ سے سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے پھر سجدہ کر حتیٰ کہ تجھے سجدہ میں اطمینان حاصل ہو جائے، پھر سجدہ سے سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے۔‘‘ [1] اسی روایت کے آخر میں ہے ابو اسامہ نے کہا: ’’تو اپنے سجدہ سے سر اٹھا حتی کہ سیدھا کھڑا ہو جائے‘‘ چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے پوری سند کے ساتھ اس حدیث کو دوسرے مقام پر بیان کیا ہے۔[2] امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اس حدیث کی حیثیت بیان کرنا ہے کہ راوی حدیث عبید اللہ بن عمر کے تین شاگرد ہیں۔ 1) عبداللہ بن نمیر2)یحییٰ علیہ السلام3) ابو اسامہ۔ پہلے دو شاگرد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے سجدہ سے سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے۔ البتہ ابو اسامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اپنے سجدہ سے سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، جیسا کہ سوال میں بیان کیا گیا ہے، اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے دو ساتھیوں کی مخالفت کی ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اس کے یہ الفاظ مخالفت کی وجہ سے شاذ ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان الفاظ کو بیان کرنے کے فوراً بعد یحییٰ کی روایت کو بیان کیاہے جس کے الفاظ ہیں کہ تو سجدہ سے سر اٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔ [3] بہرحال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جلسہ استراحت کی مشروعیت کے قائل ہیں جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں، اور جس روایت سے اس کی عدم مشروعیت پر استدلال کیا گیا ہے وہ شاذ ہے، اس روایت کے علاوہ کچھ دوسری روایات بھی پیش کی جاتی ہیں جو سند کے اعتبار سے محدثین کے معیار صحت پر پوری نہیں اترتیں۔ لہٰذا ان کا استدلال صحیح نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) تیسری، چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ مزید سورت پڑھنا سوال:کیا ظہر اور عصر کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ جواب:حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دو سورتیں پڑھتے اور دوسری دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے۔ [4] لیکن دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت بھی ملائی جا سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے برابر قراء ت کرتے اور دوسری دو رکعتوں میں پندرہ آیات کے برابر قراء ت کرتے، اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیات کے برابر قراء ت کرتے اور دوسری دو رکعات میں اس سے نصف کے بقدر قراء ت کرتے تھے۔[5] اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہر اور عصر کی آخری دو رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی بھی سورت ملائی جا سکتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے بلکہ فاتحہ کا پڑھنا ہی ضروری ہے۔ (واللہ اعلم) [1] صحیح بخاری، الاستیذان:۶۲۵۱۔ [2] صحیح بخاری، الایمان والنذور: ۶۶۶۷۔ [3] صحیح بخاری، الاستیذان: ۶۲۵۲۔ [4] بخاری، الاذان:۷۷۶۔ [5] مسند امام احمد،ص:۳،ج۳۔