کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 1) - صفحہ 498
وقت میں مدد کی بجائے ان کے خلا ف دشمن کی مدد کے لیے فو ج بھیجی جا ئے اور ان کے تا زہ زخمو ں پر نمک پا شی کی جا ئے، ہما ر ے نزدیک آزادی کی جنگ لڑنے وا لے عرا قی مجا ہدین کے خلا ف غا صب امر یکہ کی مدد کے لیے افوا ج بھیجنا حرا م ہے اور یہ اقدا م ملی غیر ت کا جنا زہ نکا لنے کے مترا دف ہے ۔ ہمیں سو چنا چا ہیے کہ اگر ہم اپنے جوانوں کو کسی اسلا می ملک میں اس مقصد کے لیے روا نہ کر تے ہیں کہ وہ آزادی کی جنگ لڑنے والو ں کے خلا ف امر یکہ کے مفا دا ت کا تحفظ کریں اور اس کے احکا م بجا لا ئیں تو ایسی حکمت عملی اسلا می نقطہ نظر سے ایک المیہ سے کم نہ ہو گی ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مسلما ن فوجی دو سرے مسلمانوں کے قتل میں حصہ دار بنے ، اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دوستی دشمنوں سے ہے، ایسے حا لا ت میں قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ جو دشمنوں سے دوستی رکھتا ہے وہ انہیں میں سے ہے ۔(5/المائدہ :51)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے قو می جر م کے مر تکب کا جنا زہ نہیں پڑھا، جیسا کہ ما ل غنیمت سے چو ر ی کر نے والے کے متعلق احا دیث میں آیا ہے، اس بنا پر ہما ر ے حکمرا نو ں کو سو چنا چا ہیے کہ ہما ر ی افواج کو مسلما نوں کے خلا ف لڑتے ہو ئے مر نے کی صورت میں انہیں مسلما نوں کی دعا ؤں اور ان کے جنا زوں سے محروم نہ کر یں ۔
(2)دین اسلام کا مزا ج ہے کہ وہ اس عا لم رنگ وبو میں ادیا ن با طلہ میں غا لب آنے کے لیے آیا ہے جیسا کہ ارشا د با ر ی تعا لیٰ ہے: ’’اللہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدا یت اور سچا دین دے کر بھیجا تا کہ اسے تمام مذا ہب پر غا لب کر دے ۔‘‘(61/الصف:9)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ اس دین اسلا م کو آفا ق میں پھیلا نے والا اور دوسرے تمام ادیا ن با طلہ پر غا لب کر نے وا لا ہے ،یہ غلبہ دلائل کے لحا ظ سے ہو یا ما دی وسا ئل کے اعتبا ر سے، بہر حا ل اس کے مزا ج میں مغلو ب ہو نا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ دین اسلا م اپنی پا لیسی کے پیش نظر سب سے پہلے اہل کفر کو دعوت دیتا ہے کہ اسے قبول کر لیا جائے، اگر اسے قبول کر لیں تو ان کے حقوق دوسرےمسلما نوں کے برابر ہیں، انکا ر کی صورت میں ان کے سا منے دو ر استے پیش کر تا ہے اگر تم نے کفر نہیں چھوڑ نا تو جز یہ دے کر ہما ر ی ما تحتی قبو ل کر لو، اس طرح انہیں دنیا میں زندہ رہنے کا حق ہے، اگر ما تحتی قبو ل نہ کریں تو پھر انہیں اس عا لم رنگ و بو میں زندہ رہنے کا حق نہیں ہے، ارشا د با ر ی تعالیٰ ہے :" ان لو گوں سے لڑو جو اللہ پراور قیا مت کے دن پر ایما ن نہیں لاتے ،جو اللہ اور اس کے رسول کی حرا م کردہ چیزوں کو حرا م نہیں جا نتے ، نہ دین حق کو قبو ل کر تے ہیں ،ان لوگوں میں سے جنہیں کتا ب دی گئی ہے تاآنکہ وہ ذلیل و خوا ر ہو کر اپنے ہا تھوں سے جز یہ ادا کر یں ۔‘‘(9/التو بہ :29)
اس سے پہلے اللہ تعا لیٰ نے اہل اسلا م کو مشر کین سے قتا ل عا م کا حکم دیا ہے اس کے بعد اس آیت کر یمہ میں یہو د و نصا ریٰ سے قتا ل کا حکم دیا جا رہا ہے اگر یہ لو گ اسلا م قبو ل نہ کر یں توانہیں جز یہ دے کر مسلمانوں کی ما تحتی میں رہنا ہو گا۔
اس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ اسرائیل کا و جو د مسلما نوں کے خلا ف ایک گہر ی سا ز ش کا نتیجہ ہے، مسلمانوں کے خلاف منصو بے بنا نا اور ا نہیں عملی شکل دینا اس کا نصب العین ہے، دیگر کفر کی حکو متیں اس کے مفا دات کا تحفظ کر تی ہیں ،اس کے وجود کو تسلیم کر نا ایسا ہے کہ گو یا مسلما نوں کے خلا ف اس کی چیرہ دستیوں کو آہنی تحفظ دینا ہے، قبلہ اول پر غا صبا نہ قبضہ اور فلسطینی مسلمانوں کو آتش و آہن کی با ر ش سے تہس نہس کر نا اس کے مکرو ہ عزا ئم کی عکا سی کر تا ہے، پس پردہ کفر کی یہ سا ز ش ہے، اہل پا کستا ن اسرا ئیل کو تسلیم