کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 1) - صفحہ 497
(3)اگر کو ئی حکو مت عدل و انصا ف اور شر یعت کا نفا ذ کر تی ہے تو وہ اسلا می حکو مت ہے قطع نظر کہ وہ شخصی ہے یا غیر شخصی، اسلا می ہو نے کا دارو مدا ر اس کے جمہو ر ی اور ملو کیت پر نہیں بلکہ اسلا می قا نو ن کی با لا دستی پر ہے، ہما ر ی تا ئید کی بنیا د یہی کتا ب و سنت کی با لا دستی ہے ۔ (4)حنفی ،شا فعی مسلما ن ہیں، ان سے شا دی بیا ہ کیا جا سکتا ہے بشر طیکہ شرک کا ارتکا ب نہ کر یں، دیگر مذا ہب میں سے صرف اہل کتا ب کی عورتوں سے شا دی کر نے کی اجا زت ہے بشر طیکہ مسلما ن خا و ند کے ان سے نکا ح کے بعد اخلا ق متأ ثر ہو نے کا اند یشہ نہ ہو، قرآن کر یم نے اس پہلو کومد نظر رکھنے کا واضح اشارہ دیا ہے ۔ (5)تو بہ کی شر ائط یہ ہیں: اعترا ف جر م، اظہا ر ندا مت اور اخلا ص کے ساتھ اصلا ح کر دار کا عز م با لجزم اور اگر ما لی معا ملہ ہے تو اس کا درست کر نا ، اگر ان شرا ئط کو ملحو ظ رکھتے ہو ئے تو بہ کی ہے تو امید ہے کہ اللہ کے ہاں شر ف قبو لیت سے نو ازی جا ئے گی، اس طرح دو با رہ گناہ کر نے پر بھی انہی شر ائط کو مد نظر رکھتے ہو ئے تو بہ کی جا سکتی ہے، اگر گنا ہ کر تے وقت شرو ع ہی سے نیت خرا ب ہو تو یہ تو بۃ الکذا بین ہے جس کا اللہ کے حضور کو ئی اعتبا ر نہ ہے ۔ سوال۔ملتان سے محمد خا ں لکھتے ہیں کہ مندرجہ ذیل سوالا ت کا قرآن و حدیث کی رو شنی میں جوا ب در کا ر ہے ؟ (1)آج کل عرا ق میں پا کستا نی افو اج بھیجنے کے متعلق اخبا را ت میں لکھا جا رہا ہے ،اس کے متعلق شرعی لحا ظ سے وضا حت کر یں۔ (2)اگر اسرا ئیل کو تسلیم کر لیا تو ایسا کر نا شر عاً جا ئز ہے یا نا جا ئز، برا ہ کرم تفصیل سے جوا ب دیں ؟ جواب۔عرا قی عوام امت مسلمہ کا حصہ ہیں، ان کے حقو ق وہی ہیں جو عام مسلما نو ں کے ہیں ،اس وقت ائمہ کفر نے اس با ت پر اتفا ق کر لیا ہے کہ شجر اسلام کو بیخ و بن سے اکھا ڑ دیا جا ئے اور اہل اسلا م سے بھی جینے کا حق چھین لیا جا ئے ،انہوں نے پہلے افغا نستان میں خو ن مسلم سے ہا تھ رنگے، پھر عراقی عوام پر چڑ ھ دوڑے ہیں تا کہ انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نا بو د کر دیا جا ئے، شر یعت کی نظر میں تمام مسلما ن آپس میں بھائی بھا ئی ہیں، رنگ و نسل قو م ملک کی اس میں کو ئی تمیز نہیں ہے، ہر مسلما ن کا فر ض ہے کہ وہ مصیبت کے وقت اپنے مسلما ن بھا ئی کی مدد کرے اور ضرورت کے وقت اپنے بھا ئی کا بھرپو ر تعاون کر ے ،کسی بھی مسلما ن کے خلا ف کفا ر کا تعاون کر نا بہت گھنا ؤ نا جر م ہے جس کی شریعت میں اجا ز ت نہیں ہے، حدیث میں ہے کہ ایک مسلما ن دوسر ے مسلما ن کا بھا ئی ہے اس پر ظلم کر نا یا اسے دوسروں کے رحم و کر م پر چھوڑ نا جا ئز نہیں ہے ۔(صحیح بخا ری : مظا لم 2442) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" کہ تمام مسلما ن با ہمی مو دت و محبت اور رأفت و شفقت ایک جسم کی طرح ہیں اگر اس کا ایک عضو کسی تکلیف میں مبتلا ہو جا ئے تو پو را جسم اس کی درد محسوس کر تا ہے ۔(صحیح بخا ری : کتا ب الا دب ) احا دیث میں مسلما ن کی شا ن یہ بتا ئی گئی ہے کہ وہ کفا ر کے مقا بلے میں مسلما ن کی مدد کر ے گا ،چنا نچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" کہ تمام مسلما نوں کے خو ن برا بر ہیں اور وہ اپنے علا وہ کفا ر کے خلا ف یک جا ن ہیں ۔‘‘ (مسند امام احمد :2/215) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" کہ اے اللہ کے بندو ! آپس میں بھائی بھا ئی بن جا ؤ۔‘‘ (صحیح بخا ری : الادب 6064) کیا یہ اخو ت اسلا میہ کا تقا ضا ہے کہ عراقی مسلما ن جو ا ب امریکی غلا می کے خلا ف آزا دی کی جنگ لڑ رہے ہیں ، اس مشکل