کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 1) - صفحہ 496
میں اسے اعتدال پر لا نے کے لیے کا ٹا جا سکتا ہے ۔(باجی شر ح مؤطا :ج 7ص226)
(3)حا فظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے امام طبر ی کے حو الہ سے لکھا ہے کہ اگر آدمی اپنی دا ڑھی کو اپنی حا لت پر چھو ڑ دے اور اس کا طو ل و عرض اس حد تک بڑھ جا ئے کہ لو گو ں کے ہاں’’ اضحو کہ رو ز گا ر‘‘ بن جا ئے تو ایسی حا لت میں اسے کا ٹا جا سکتا ہے ۔(فتح البا ری :ج 10ص43)
(4)حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روا یا ت میں ہے کہ ان کے پا س ایک شخص لا یا گیا جس کی دا ڑھی حد سے بڑھی ہو ئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے معقول حد کے نیچے سے اسے کا ٹ دیا تھا، حا فظ ابن حجر نے طبری کے حوا لہ سے بیا ن کیا ہے ۔(واللہ اعلم)
اگر کو ئی اس قسم کے دلا ئل سے مطمئن ہو تو مذکو رہ شخص کے متعلق نر م گو شہ رکھنے میں چندا ں حر ج نہیں ہے ،بصورت دیگر اسے استقا مت کا مظا ہرہ کرنا چا ہیے تا کہ سنت کی حفا ظت پر اللہ کے ہا ں بے پا یا اجر و ثواب کی امید کی جا سکے، ہم نے ایسے بز رگ بھی دیکھے ہیں کہ دو را ن نماز جب رکو ع کر تے تھے تو ان کی داڑھی زمین پر لگتی تھی، اب وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اللہ تعا لیٰ انہیں اپنے ہاں کر وٹ کرو ٹ رحمت سے نوا زے، آمین ۔
سوال۔ پشا ور سے کا مرا ن لکھتے ہیں کہ مندرجہ ذیل سوالات کا کتا ب و سنت کی رو شنی میں جوا ب دیں ۔
(1)کیا اسلا م کا نظا م حکو مت جمہوریت ہے اگر نہیں تو اہل حدیث اس کے علمبردار کیوں ہیں ؟
(2)حدیث کی اقسا م ضعیف، مو ضو ع وغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضع نہیں کیں، اہل حدیث اسے کیوں ما نتے ہیں ؟
(3) کیا اسلا م میں شخصی حکو مت جا ئز ہے اگر نہیں تو آپ ایسی حکومتوں کی تا ئید کیوں کر تے ہیں ؟
(4)کیا شا فعی حنفی اور دیگر مسا لک کی عورتوں سے نکا ح جا ئز ہے ؟
(5)ایک آدمی ایک گنا ہ کئی مر تبہ کر تا ہے ہر دفعہ تو بہ کر تا ہے اور اسے چھوڑ نے کا ارادہ کر تا ہے کیا ایسی تو بہ قبو ل ہے ؟
جواب۔ہم نے متعدد مر تبہ اپنے قا ر ئین کو تو جہ دلا ئی ہے کہ صرف ایسے سوالات کا جوا ب دریا فت کیا جا ئے جو عملی زند گی سے متعلق ہو ں اور ان کی تعداد بھی زیا دہ سے زیا دہ تین ہو نا چا ہیے، آپ حضرات اپنے وقت کا احسا س کیا کر یں کیونکہ اس کے متعلق بھی قیا مت کے دن با ز پرس ہو گی، اب ترتیب وار سوالات کے مختصر جوا با ت ملا حظہ فر ما ئیں ۔
(1)مغر بی جمہور یت اسلا م کا نظا م حکو مت نہیں ہے جس کی بنیا د یہ ہے کہ عوام کی حکو مت عوام کے ذر یعے عوام کے لیے، اس قسم کی جمہوریت کا کو ئی بھی اہل حدیث علمبردار نہیں ہے، اسلا م کا نظا م حکو مت شو را ئی ہے اور ہم اس کی لو گو ں کو دعو ت دیتے ہیں، ہما ر ے نز دیک وہی نظا م حکو مت بہتر ہے جو اسلا م کے تا بع ہے ۔
(2)حدیث کی مذکو رہ اقسا م کی بنیا د کتا ب و سنت پر ہے، ارشا د با ر ی تعا لیٰ ہے :" ایما ن وا لو ! اگر تمہا رے پا س کو ئی فا سق اہم خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو ۔‘‘ (49/الحجرات :6)
اسی تحقیق اور چھا ن پھٹک کے نتیجہ میں ضعیف مو ضو ع وغیرہ معرض وجود میں آئی ہیں ۔محد ثین کرا م کا یہ مقو لہ بڑی اہمیت کا حا مل ہے کہ اگر سند نہ ہوتی تو حدیث کے متعلق ہر انسا ن جو چا ہتا کہہ دیتا ۔حضرت عمر فا رو ق رضی اللہ عنہ نے بھی احا دیث کے سلسلہ میں تثبت سے کا م لیا ہے، ہم اہل حدیث بھی اسی اصول کو بر و ئے کا ر لا تے ہیں اور حدیث کی اقسام تسلیم کر تے ہیں ۔