کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 99
شیبہ میں ہے کہ اگرچہ اسے لوگوں نے اپنے طورپر پڑھناشروع کردیا ہے لیکن مجھے ان کی ادابہت پسند ہے ۔ [فتح الباری : ۳/۶۹] بہرحال آپ کاانکار اس بنا پرہے کہ آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز اشراق پڑھتے نہیں دیکھا ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کانہ دیکھنا اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ سرے سے اس نما ز کاوجود ہی نہیں ہے یااس کاادا کرنابدعت ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ وغیرہ نے لکھا ہے کہ نماز اشراق کی فرض نماز جیسی پابندی کرنا،مسجد میں اس کا اداکرنا اورباجماعت اہتمام کرنے کے متعلق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انکار کیاہے۔ آپ کے انکار کایہ معنی نہیں ہے کہ نماز اشراق خلاف سنت ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو اس کااہتمام کرتے دیکھا تو فرمایا: اگرتم نے اس کااہتمام کرنا ہے تواپنے گھروں میں اداکرو۔ [فتح الباری ] بلکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح ابن خزیمہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو نمازاشراق پڑھتے ۔ [فتح الباری:۳/۶۹] حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے نماز اشراق کے متعلق اختلاف بیان کرتے ہوئے مختلف مسالک کی نشاندہی کی ہے ۔جس کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ نمازاشراق مستحب ہے، البتہ اس کی تعداد میں اختلاف ہے ۔ 2۔ کسی سبب کی وجہ سے اس کااہتمام کیاجائے، مثلاً: کسی شہر کے فتح ہونے یا کسی مخالف کی موت پریاکسی کے ہاں زیارت کے لئے جانے پر یاسفر سے واپس آنے پر۔ 3۔ سرے سے مشروع نہیں ہے جیسا کہ حضرت عبدالرحمن اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے متعلق مروی ہے کہ یہ حضرات، اسے نہیں پڑھا کرتے تھے۔ 4۔ اس پر مداومت نہ کی جائے بلکہ کبھی پڑھ لی جائے اورکبھی اسے چھوڑدیاجائے ۔ 5۔ اس کے پڑھنے کااہتمام گھروں میں کیاجائے ،مساجد وغیرہ میں اس کااظہاردرست نہیں ہے ۔ 6۔ یہ مستحب نہیں ہے بلکہ بدعت ہے ۔ [زادالمعاد :۱/۳۵۱] ہمارے نزدیک پہلاموقف صحیح ہے اوراس کی کم ازکم دورکعات اورزیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات ہیں۔ [ھذاماعندی واﷲ اعلم بالصواب ] سوال: آپ نے اہل حدیث شمارہ نمبر۲ مجریہ ۱۰جنوری ۲۰۰۴ء میں نمازی کے سترہ کے متعلق لکھا ہے کہ ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو سترہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کاحکم دیا اور بغیر سترہ کے نماز پڑھنے سے منع کیاہے اورآپ کا امروجوب اورنہی تحریم کے لئے ہے۔ ہاں، اگرکوئی قرینہ ہوتوامروجوب کے بجائے استحباب کے لئے ہوتا ہے لیکن یہا ں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے کہ آپ کے امر کووجوب کے بجائے استحباب پرمحمول کیاجائے ،پھر نہی سے مراد بھی نہی تحریم ہے جس کامطلب یہ ہے کہ نماز کے لئے سترہ بنانا واجب ہے اوراس کے بغیرنماز اداکرنا حرام ہے‘‘ (الیٰ آخرہ) لیکن ہمارے سامنے کچھ ایسی احادیث اورآثار وقرائن ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ امروجوب کے لئے نہیں بلکہ استحباب