کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 98
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے نمازاشراق کے متعلق ایک مفصل جزتصنیف کیا ہے جس میں تقریباً بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات کوجمع کرکے اس نماز کی مشروعیت کوثابت کیاہے ۔ [فتح الباری :۳/۷۲] اس نماز کی فضیلت کے متعلق متعدد روایات ہیں، حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نماز اشراق پڑھنے والے کوعمرہ کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔‘‘ [مسند امام احمد:۵/۲۶۸] اگرچہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کونمازاشراق پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔لیکن ان کے نہ دیکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرے سے اس نماز کاوجود ہی نہیں بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کونمازاشراق پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا مگر میں اسے اداکرتی ہوں ،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ کسی عمل کو پسند کرتے تھے مگراس پر عمل پیرانہ ہوتے ،اس کی وجہ یہ ہوتی کہ آپ کے عمل کودیکھ کرلوگ بھی اسے اپنائیں گے، پھر ان پرفرض ہو جائے گا اس ڈر سے آپ کوپسندیدہ ہونے کے باوجود آپ اس پرعمل نہ کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم: ۱۶۶۲] اس حدیث کے پیش نظر ممکن ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اشراق نہ دیکھی ہو،اگرچہ اس کاثبوت سابقہ روایات میں موجود ہے ،تاہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے بڑے اہتمام سے اد اکرتی اور فرمایا کرتی تھیں کہ اگر میرے والدین بھی زندہ ہوکر آجائیں تب بھی نماز اشراق نہیں چھوڑوں گی ۔ [مؤطاامام مالک، باب صلوٰۃ الضحیٰ] اب ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کاجائزہ لیتے ہیں، جس میں انہوں نے فرمایا کہ نمازاشراق بدعت ہے، چنانچہ وہ روایت ماہنامہ ’’طیبات‘‘ کے حوالہ سے بیان ہوچکی ہے اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے [کتاب العمرہ: ۱۷۷۵] میں بیان کیا ہے، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مورق نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ کیا آپ نماز اشراق پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پڑھا؟ فرمایا نہیں، عرض کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے ادا کیا؟ فرمایا نہیں، میں نے کہا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاپڑھنا ثابت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں ان سے پڑھنا بھی ثابت نہیں ہے ۔ [صحیح بخاری : ۱۱۷۵] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت پریہ عنوان قائم کیا ہے کہ ’’سفر میں نماز اشراق اداکرنا۔‘‘ عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے بعد آپ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کی روایت لاتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پران کے گھرتشریف لائے، غسل فرمایا، پھرآٹھ رکعات اداکیں ،یہ نماز بہت ہلکی تھی ،البتہ رکوع اور سجود کوپورا ادا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری :۱۱۷۶] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان روایت کی تشریح کرتے ہوئے ابن المنیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ دوران سفر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کااہتمام نہ کرتے تھے ہاں، اگر دوران سفر ،حضر جیسی سہولت میسر ہوتونمازاشراق کااہتمام کیاجاسکتا ہے۔ جیساکہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر میں سہولیات میسر تھیں توآپ نے نماز اشراق ادا کی ۔جبکہ ابھی سفر ختم نہیں ہواتھا۔ [فتح الباری :۳/۶۸] پھرحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ نماز اشراق کے متعلق اپنے اندر نرم گوشہ رکھتے تھے، جیسا کہ مصنف ابن ابی