کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 96
اذان ونماز سوال: کیا نماز اشراق بدعت ہے۔ ماہنامہ ’’طیبات ‘‘میں اس نماز کوبدعت لکھا ہے،بعض حضرات نے اس کے پیش نظر اس نماز کوترک کردیا ہے جبکہ ہم نے اپنے علمائے کرام سے اس نماز کے متعلق بہت فضیلت سن رکھی ہے۔ وضاحت فرمائیں؟ جواب: ماہنامہ ’’طیبات ‘‘میں ایک خاتون ’’گل دستہ احادیث سے کچھ پھول چنے میں نے ‘‘کے عنوان سے مستقل لکھتی ہیں ، اس میں ایک حدیث بایں الفاظ درج ہے ’’‘مجاہد نے بیان کیا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے وہاں سیدنا عبداﷲبن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجر ہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے ،مجاہد کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا توآپ نے فرمایا کہ بدعت ہے۔‘‘ [بخاری ، ماہنامہ ’’طیبات‘ ‘ مجریہ اکتوبر ۲۰۰۳،صفحہ ۸] کالم نگار کوچاہیے تھا کہ اس حدیث کے متعلق وضاحتی نوٹ لکھتی کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز اشراق کے متعلق بدعت ہونے کاتبصر ہ کس پس منظر میں کیا ہے تاکہ لوگ اس کے متعلق الجھن یا ابہام کاشکار نہ ہوتے۔ ممکن ہے کہ ناقصات عقل ودین کے حوالہ سے یہ سہوہوا ہو ،ویسے بھی اس پرفتن دور میں تحقیق کی آڑ میں بدعات کوفروغ دیاجارہاہے اورمسلمات کاانکار کیاجارہاہے ،اس قسم کی جدید تحقیق سے ہمارے حساس اہل حدیث حضرات میں بہت اضطراب پایاجاتا ہے۔ارباب حل وعقد کوچاہیے کہ اس فتنہ تحقیق کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کریں تاکہ عامۃ الناس مسلک اہل حدیث کے متعلق شکوک وشبہات کاشکار نہ ہوں، اس ضروری وضاحت کے بعد اب ہم درپیش مسئلہ کے متعلق اپنی گزارشات پیش کرتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے نما زاشراق کی اہمیت وفضیلت ثابت ہے ۔چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کے ہرجوڑ کے بدلے صدقہ خیرات کرے سبحان اﷲ کہناصدقہ ہے، الحمدﷲ کہنابھی صدقہ ہے، لاالہ الا االلّٰه محمدرسول االلّٰه کہنا بھی صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کاحکم دینا بھی صدقہ ہے، برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے اور اگر اشراق کی دورکعت پڑھ لی جائیں تو ان سب کاموں سے کفایت کرجاتی ہیں ۔‘‘ [صحیح مسلم: ۱۶۷۱] اس حدیث پرامام نووی رحمہ اللہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیاہے: ’’نماز اشراق کے استحباب کابیان کم ازکم دورکعات اورمکمل آٹھ رکعات ہیں، درمیانہ درجہ چار یاچھ رکعات اداکرنا ہے اورشوق سے اس نماز کی پابندی کابیان ۔‘‘ حدیث قدسی میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’’ اے ابن آدم ! تومیرے لئے چار رکعات (اشراق کی ) اول دن میں پڑھ میں اس دن کی شام تک تیرے تمام کام سنواردوں گا۔ ‘‘ [ابوداؤد، ابواب التطوع:۱۲۸۹] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کونماز اشراق کے ادا کرنے کی وصیت بھی فرمائی جس پر عمر بھر کاربند رہے ،چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے پیارے دوست رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ،جب تک میں زندہ رہوں گا انہیں نہیں چھوڑوں گا، ہرمہینے کے تین روزے، اشراق کی نماز اور سونے سے پہلے نمازوتر کی ادائیگی۔