کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 93
اپنے منہ اوردونوں ہاتھوں پرمسح کیا۔ [صحیح بخاری:۳۳۸] یعنی الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر،سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ پر مسح کیا،پھر دونوں ہاتھوں سے چہرہ کامسح کیا ۔ سوال: دودھ پیتے بچے کاپیشاب پاک ہے کیابچی کاپیشاب بھی پاک ہے اس کی وضاحت فرمائیں ؟ جواب: پیشاب پلید ہے، خواہ شیرخوار بچے کاہو یابالغ مرد کا،اسی طرح اس کے نجس ہونے میں بچی اوربچے کی تفریق بھی صحیح نہیں ہے، البتہ شریعت نے جس کپڑے کوپیشاب لگ جائے، اس کے پاک کرنے کے متعلق بچے اوربچی کے پیشاب میں فرق ضرور رکھاہے، چنانچہ بچے کے متعلق حکم ہے کہ اس پرچھینٹے مارے جائیں اسے دھویا نہ جائے اوربچی کے پیشاب کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اسے دھویا جائے۔ حدیث میں ہے: ’’لڑکی کاپیشاب دھویاجاتا ہے اورلڑکے کے پیشاب پرچھینٹے مارے جاتے ہیں۔ ‘‘ [ابن ماجہ ،الطہارۃ:۵۲۲] لڑکے اورلڑکی کے پیشاب میں تفریق کے متعلق احادیث خاموش ہیں، البتہ محدثین نے بیان کیا ہے کہ لڑکے کے اٹھانے والے اقارب اوراجانب سب ہوتے ہیں، اس لئے اس کی طہارت میں کچھ تخفیف رکھی گئی ہے جبکہ لڑکی کواٹھانے والے صرف والدین یااس کے بہن بھائی ہوتے ہیں، اس لئے طہار ت کے متعلق اصل حکم کوباقی رکھا گیا ہے۔ سوال: اگرکسی عورت کاتین چارماہ کاحمل ضائع ہوجائے تواس کے بہنے والے خون کاکیاحکم ہے ،اس کی موجودگی میں نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں یاروزہ رکھاجاسکتا ہے یا نہیں؟ جواب: اﷲ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ہرماہ عورت سے بہنے والاخون حیض ،جب عورت کوحمل ہوجاتا ہے تووہی خون جنین کی غذا کاکام دیتا ہے۔ حمل کے بعد خون حیض بندہونے کی غالباًیہی وجہ ہے۔ اب اگر وقت پورا ہونے سے پہلے پہلے حمل ساقط ہوجاتا ہے تواس کے بعد بہنے والاخون ’’نفاس ‘‘کے حکم میں ہے ،جس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے اگر اس سے پہلے بندہوجائے تو نہانے کے بعد نماز پڑھنا چاہیے اورروزے بھی رکھناچاہئیں ۔جب تک یہ خون جاری رہے ،نمازاورروزے معاف ہیں۔ روزوں کی بعد میں قضادیناہوگی ۔واضح رہے کہ خون بندہونے کے بعد نمازروزہ کی معافی ختم ہوجاتی ہے ۔اس لئے بندش کے فورًا بعد غسل کرکے نماز روزہ کوشروع کردیا جائے ،بلاوجہ غسل میں تاخیر کرنا جیسا کہ عام طورپر خواتین کی عادت ہے شرعی طورپر صحیح نہیں ہے ۔ سوال: کیاکسی مجبوری کے پیش نظر جنبی کوتیمم کرنے کی اجازت ہے، ناپاک جسم اورناپاک کپڑوں کے متعلق ایسے حالات میں کیاحکم ہے کیونکہ تیمم توصرف منہ اورہاتھوں کا ہوتا ہے؟ جواب: اگرپانی دستیاب نہ ہو توایسی مجبوری کے وقت تیمم کی اجازت ہے، چنانچہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت کے بعد ایک شخص کوالگ تھلگ بیٹھے ہوئے دیکھا توفرمایا کہ ’’تونے قوم کے ساتھ نماز نہیں پڑھی‘‘ اس نے عرض کیا: مجھے جنابت کاعارضہ لاحق ہوگیا لیکن غسل کے لئے پانی نہ مل سکا ۔آپ نے فرمایا کہ ’’تیرے لئے مٹی کااستعمال یعنی تیمم کافی تھا تجھے چاہیے تھا کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لیتا۔‘‘ [بخاری ،تیمم:۳۴۸] اس طرح اگربیماری یااورکوئی مجبوری ہوتو تیمم کیاجاسکتا ہے عبادت کے لئے یہی کافی ہے جب بھی مجبوری ختم ہوجائے