کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 92
کریں ۔ جواب: جنبی عورت کے لئے یہ پابندی ہے کہ نماز کی ادا ئیگی اس حالت میں نہیں کرسکتی کیونکہ اس قسم کی عبادت کے لئے طہارت شرط ہے، جیسا کہ حیض ونفاس والی عورت کے لئے شرط ہے کہ جب وہ حیض ونفاس سے پاک ہوتو نمازوغیرہ کی ادائیگی کے لئے طہارت واجب ہے لیکن بچے کودودھ پلانے کے لئے طہارت شرط نہیں ہے، جیسا کہ کھانا پکانے اورگھر کے دوسرے کام کاج کرنے کے لئے طہارت ضروری نہیں۔ اس لئے عورت کاغسل سے قبل دودھ پلاناجائز ہے، خواہ وہ غسل جنابت ہویاغسل حیض یاغسل نفاس، ان حالات میں بچے کودودھ پلانے کے لئے طہارت کی شرط لگانا کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: ہمارے ہاں شہر کی اکثر مساجد میں نمازی حضرات صاف ستھرے ماحول میں رہنے کے باوجود جب وضو کے لئے بیٹھتے ہیں تواعضائے وضوکومل مل کرکم وبیش پانچ سات مرتبہ دھوتے ہیں ۔پانی کااستعمال غسل کے برابر ہوتا ہے، براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔ جواب: پانی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے اسے بلاوجہ ضائع نہیں کرناچاہیے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضائے وضو کوایک ایک دودواورزیادہ سے زیادہ تین تین مرتبہ دھویا ہے جوآدمی تین مرتبہ سے زیادہ مرتبہ دھوتاہے اس کے متعلق آپ نے فرمایا کہ ’’اس نے زیادتی کی اورحد سے تجاوز کیاہے۔‘‘ بعض روایات میں ہے کہ ’’اس نے براکام کیا ہے۔‘‘ لہٰذااس سلسلہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ [ابن ماجہ، الطہارۃ: ۴۲۲] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ سے زیادہ وہی شخص دھوتا ہے جومجنوں ہوتا ہے۔ عبد اﷲ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا کرنا گناہ ہے۔ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو کرتے وقت پانی کااسراف شیطانی حرکت ہے(مغنی ابن قدامہ، ص:۱۹۴ ج۱) لہٰذا سنت کے مطابق اعضائے وضو کوتین سے زیادہ مرتبہ نہیں دھونا چاہیے۔ [واﷲ اعلم] سوال: جنابت کی حالت میں اگرکوئی فوت ہوجائے تواسے ایک غسل دینا کافی ہے یادومرتبہ غسل دیناچاہیے؟ جواب: ایسی حالت میں فوت ہونے والے شخص کے لئے ایک ہی غسل کافی ہے اسے دومرتبہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ دوران نفاس فوت ہونے والی عورت کوایک ہی غسل کافی ہوتا ہے، عبادات میں اس کی نظیربایں طورپر ہے اگر کوئی مسجد میں صبح یاظہر کی سنتیں اداکرتا ہے تواس سے تحیۃ المسجد ساقط ہوجاتا ہے اسے الگ الگ سنتیں ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، صورت مسئولہ میں بھی ایک ہی مرتبہ غسل دیناکافی ہے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: وضو کے بعد پانی کے دوگھونٹ پیناسنت ہے یا نہیں؟ جواب: اگر پانی پینے کی ضرورت ہویاکوئی مسئلہ بتانا مقصود ہوتو وضوسے بچاہواپانی پینے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کوفہ میں ایک مرتبہ وضو کیا، پھر کھڑے ہوکر بچا ہوا پانی نوش کیا اورفرمایا کہ ’’میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کواس طرح کھڑے ہوکر پانی پیتے دیکھا ہے۔‘‘ [صحیح بخاری: ۵۶۱۶] سوال: تیمم کرنے کا صحیح طریقہ کیاہے وضاحت کریں؟ جواب: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے لئے دونوں ہاتھ زمین پرمارے، پھران میں پھونک لگائی ۔اس کے بعد ان کے ساتھ