کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 91
وضو کے بعد مندرجہ بالا دعائیں پڑھنا فضیلت کاباعث ہیں لیکن اس دوران انگشت شہادت اٹھانا کسی معتبر حدیث سے ثابت نہیں ہے، البتہ آسمان کی طرف نظراٹھانابعض روایات میں آیا ہے ۔ [مسند امام احمد، ص: ۱۵۰ج۴] لیکن ا س کی سند صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں ابو عقیل نامی راوی اپنے چچا کے بیٹے سے بیان کرتے ہیں جس کی تعدیل ثابت نہیں ہے اس لئے یہ راوی مجہول ہے۔ اس میں دوسری علت یہ ہے کہ مذکورہ راوی اضافہ کرنے میں منفرد ہے اگر ضعیف یا مجہول راوی ثقہ راویوں کی مخالفت کرے تواس کی بیان کردہ روایت منکرکہلاتی ہے۔ واضح رہے کہ صحیح مسلم اور سنن نسائی میں یہ روایت اس اضافہ کے بغیر بیان ہوئی ہے اس لئے وضوکے بعد مذکورہ دعائیں پڑھی جائیں ۔پڑھتے وقت آسمان کی طرف نظرکرنا یاانگشت شہادت کواٹھاناصحیح نہیں ہے ۔ [واﷲاعلم ] سوال: کیاناپاکی کی حالت میں چھوٹی چھوٹی دعائیں چلتے پھرتے پڑھی جاسکتی ہیں، نیز قرآن پاک پڑھ کر مردوں کوبخشنا شرعاً کیساہے؟ اس کے علاوہ ذہانت کے لئے کوئی بہترین وظیفہ اور نسخہ تحریر کریں؟ جواب: ناپاکی کی حالت میں ہرقسم کے وظائف کئے جاسکتے ہیں، دعا کے طورپر قرآنی آیا ت بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔ ان آیات کو تلاوت اورقراء ت کی حیثیت نہ دی جائے کیونکہ اس حالت میں تلاوت قرآن جائز نہیں ہے۔ ٭ عبادات کی تین اقسام ہیں: 1۔ مالی :صدقہ وغیرہ میت کی طرف سے دیاجاسکتا ہے ۔ 2۔ بدنی :نماز وغیرہ میت کی طرف سے ادا نہیں کی جاسکتی ہے ۔ 3۔ مرکب :حج وغیرہ بھی میت کی طرف سے ہوسکتا ہے ۔ تلاوت قرآن بھی بدنی عبادت ہے اس بنا پر اس میں نیابت درست نہیں ہے۔ متقدّمین شافعیہ نے اسے ناجائز ٹھہرایا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ نے درج ذیل آیت کودلیل بناتے ہوئے میت کی طرف سے قرآن خوانی کوناجائز کہاہے ’’اورانسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی ہواو راس کی کوشش کوجلد ہی دیکھ لیاجائے گا ۔‘‘ [۵۳/النجم : ۳۹۔۴۰] اس کے علاوہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اوردور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی یہ کام نہیں ہوا، اس لئے بھی ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی درست نہیں ہے ۔ ٭ جہاں تک ذہانت کے لئے بہترین وظیفہ یانسخہ کاتعلق ہے، اس کے لئے کسی بہترین روحانی عامل یاتجربہ کار حکیم سے رابطہ کیا جائے، البتہ علمائے کرام نے اپنے تجربات کے مطابق ’’ترک معاصی ‘‘کانسخہ ذہانت کے لئے تجویز کیاہے، نیز ان کاکہناہے کہ نماز کے بعد سورۂ الم نشرح گیا رہ مرتبہ اوراکیس مرتبہ ’’رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ تا یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ‘‘پڑھنا بھی مفید ہے۔ ان سے پہلے اوربعد میں درود ابراہیمی بھی پڑھ لیاجائے ،اس کے علاوہ گیارہ بادام شیریں پانی میں بھگوکرصبح نہار منہ چبائے جائیں ان کے ساتھ خمیرہ گاؤزبان عنبری جواہر والابھی ذہانت کے لئے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ سوال: کیا عورت جنابت کی حالت میں اپنے بچے کودودھ پلاسکتی ہے یانہیں ؟کتا ب و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت