کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 90
٭ جس نے وضو کیا اور گردن کامسح کیا،قیامت کے دن لوہے کے طوق سے محفوظ رہے گا۔ [تاریخ اصفہان ] ٭ گردن کامسح کرناقیامت کے دن طوق سے محفوظ رہنا ہے۔ [مسند الفردوس ] یہ دونوں روایات موضوع اورخودساختہ ہیں کیونکہ ان میں محمد بن عمر وانصاری ایک راوی ،واہی تباہی مچانے والااورانتہائی ناقابل اعتبار ہے ۔ [سلسلہ الاحادیث الضعیفہ ص ۱۶۷،ج ۲نمبر۷۴۴ ] علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے گردن کامسح کرناثابت نہیں ہے۔ آپ نے وضو کرنے کاطریقہ امت کوتلقین کیاہے اس میں گردن کے مسح کاسرے سے وجود نہیں ہے۔ جمہور علما، مثلاً: امام مالک، امام شافعی اورامام احمد بن حنبل رحمہم اللہ اس کے قائل نہیں ہیں ۔اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی جوروایت پیش کی جاتی ہے وہ صحیح نہیں۔ اس لئے گردن کے مسح کے بغیروضو کرناچاہیے۔ [فتاویٰ ابن تیمیہ ،ص: ۱۲۷،ج ۲۱] امام ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دوران وضو گردن کامسح کرنااحادیث سے ثابت نہیں ۔ [زادالمعاد،ص: ۶۸،ج ۱] امام نووی رحمہ اللہ نے اسے بدعت قرار دیا ہے جیسا کہ علامہ ترکمانی نے اسے نقل کیاہے۔ [نیل الاوطار،ص: ۲۰۲،ج۱] اس لئے وضوکرتے وقت گردن کے مسح سے اجتناب کرناچاہیے۔ [واﷲ اعلم ] سوال: ہمارے ہاں عام طورپروضوکے بعد آسمان کی طرف منہ کرکے اپنی انگشت شہاد ت اٹھا کروضو کی دعا پڑھی جاتی ہے ایساکرناشرعاً کیاحیثیت رکھتاہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں ۔ جواب: وضو کے بعد درج ذیل دعا صحیح سند سے منقول ہے : ’’اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے اوریقیناحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اوررسول ہیں۔‘‘ ایک روایت میں’’وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ‘‘کے الفاظ بھی ہیں ۔ [صحیح مسلم ،الطہارۃ:۲۳۴] سنن ترمذی میں ایک دعا بھی منقول ہے’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ‘‘ ’’اے اﷲ! ہمیں توبہ کرنے والوں اورپاک رہنے والوں سے بنا۔‘‘ [سنن ترمذی، الطہارۃ :۵۵] اگرچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کوضعیف قرار دیاہے تاہم دیگر شواہد کی وجہ سے قابل عمل اورصحیح ہے۔ [عمل الیوم واللیلۃ، حدیث نمبر: ۳۰] مستدرک حاکم میں ایک اوردعا بھی بیان ہوئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ‘‘ ’’اے اﷲ! تو اپنی تعریف کے ساتھ ہرقسم کے نقائص سے پاک ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں ہے میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اورتیری طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘ [مستدرک، ص: ۵۶۴، ج۱]